ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 263

خوشی دینے والا ہے۔نماز جنازہ کے بعد دفن سے پہلے ایک شخص نے مولوی صاحب سے سوال کیا کہ معصوم بچے جو مرجاتے ہیں ان کی نسبت کیا حکم آیا ہے۔آیا ان سے مواخذہ ہوگا یا نہیں ہوگا۔مولوی صاحب نے فرمایا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کو جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوق سے سوال کرے گا کہ تم نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا تو پانچ قسم کے لوگ ہوں گے جو اپنے آپ کو خدا کے سامنے معذور پیش کریں گے۔(۱) بچے۔(۲) بہت بوڑھے۔(۳) بہرے۔(۴) دیوانے۔(۵) وہ لوگ جن کے کانوں میں خدا کے رسول کی آواز نہیں پہنچی۔خد اتعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا تم کو موقع دیا جاتا ہے اور تمہیں تبلیغ کی جاتی ہے۔اس لئے اس وقت ان کی طرف رسول بھیجے جائیں گے۔وہ جانتا ہے کہ کون لوگ ماننے والے ہیں اور کون نہیں لیکن خدا کی طرف سے رسول کا مبعوث ہونا اور تبلیغ کا ہونا ضروری ہے۔(بنی إسرَآئیل : ۱۶) اس مقام پر بعض لوگ نادانی سے اعتراض کرتے ہیں کہ وہ تبلیغ اور آزمائش کا موقع نہیں بلکہ جزا اور سزا کا وقت ہے۔یہ ان کی غلطی ہے جزا اور سزا کا مقام جنت اور دوزخ اس کا نام ہے ان میں داخل ہونے سے پہلے سب آزمائش کا وقت ہے۔فرمایا۔مصیبت انسان پر دو طرح آتی ہیں یا تو خدا کی رضا یا اس کے غضب سے۔انسان کی خوش قسمتی ہے کہ خدا کی رضا ہو لیکن اس کا علم انسان کو ہونا مشکل ہے ہاں کسی وقت خدا علم دے بھی دے تو یہ اس کا فضل ہے۔فرمایا۔یہ جو دعا کی جاتی ہے کہ اے اللہ اس بچہ کو ہمارے واسطے فرط اور شفیع بنا تو آخر وہ فرط اور شفیع بننے کے قابل ہوں گے تب ہی بن سکیں گے ہم تو کئی بچے آگے بھیج چکے ہیں۔(البدر جلد۱ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۰؍ اگست۱۹۰۵ ء صفحہ۷)