ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 262
بوجھ ہیں۔دینی ضروریات کا ایک سلسلہ ہے جو روز افزوں ہے بلکہ ممکن ہے کہ بعض کے لئے ابتلا کا باعث ہو۔ہاں اگر ان اخراجات کے نتائج کا واقعی علم ہو تو پھر سچ یہ ہے کہ بوجھ ہی معلوم نہ ہوگا اور بہت ایسے بھی ہیں جن کو بوجھ معلوم نہیں ہوتا۔یہی خرچ اگر ایک جگہ جمع ہوجاتا تو کوئی بڑا دینی کام نکلتا۔اب آج میرا چھوٹا بچہ بہت بیمار ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ اس کی صحت کی خوشی اور دوسرے پہلو میں غم کے خطوط پھر پہنچیں۔اس لئے میری درخواست ہے کہ بجائے اس کے کہ مجھ ے ایسے خطوط لکھے جاویں آپ صاحبان ان خرچوں کو جمع کرکے دینی کاموں میں لگا ویں۔یہ میرا دلی جوش ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ایسے اخراجات کہیں اسراف میں داخل نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کو فراست عطافرماوے۔ (ھود:۸۹)دعائیں کرو اللہ کریم ابتلاؤں سے بچائے اور آویں تو صراط المستقیم پر ثابت قدمی عطا فرماوے۔نورالدین یہ رقعہ اس امر کا سبق دیتا ہے کہ متقی غم کی حالت میں بھی کیسا خشیت اللہ کی راہ پر قدم مارتا ہے اور دنیا داروں کی طرح بے ہودہ جزع وفزع اور بے صبری میں نہیں پڑتا۔دفن سے پہلے مولوی صاحب نے عبدالقیوم کا منہ کفن میں سے کھولا اور بوسہ دیا اور آپ کی آنکھیں پُر آب ہوگئیں۔اس پر دفن کے بعد فرمایا۔’’میں نے بچہ کا منہ اس واسطے نہیں کھولا تھا کہ مجھے کچھ گھبراہٹ تھی بلکہ اسی واسطے کہ سنت پوری ہو۔آنحضرتؐ کا بیٹا ابراہیم جب فوت ہوا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ چوما تھا اور آپ کی آنسو بہ نکلیں۔اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی مدح کی اور فرمایا کہ جدائی تو تھوڑی دیر کے لئے بھی پسند نہیں ہوتی۔پر ہم خدا کے فعلوں پر راضی ہیں اسی سنت کو پورا کرنے کے واسطے میں نے بھی اس کا منہ کھولا اور چوما۔یہ خدا کا فضل ہے اور خوشی کا مقام ہے کہ کسی سنت کے پورا کرنے کا موقع عطاہو۔‘‘ پھر فرمایا۔خدا نے ہم کو کیسا رسول عطا کیا کہ وہ ہر حالت میں ہمارا غمگسار ہے اور ہر حال میں ہم کو