ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 245

۴۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے مریدوں کو غیرمسلمانوں کے ساتھ مل کر با جماعت نماز ادا کرنی چاہیے یا نہیں۔راقم مہر الدین مدرس مدرسہ میانونڈ ڈاکخانہ خاص میانونڈ ضلع امرت سر جوابات ۱۔سورۃ فاتحہ خلف الامام کو ہم فرض سمجھتے ہیں ضروری پڑھنی چاہیے۔میں بھی پڑھتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی پڑھتے ہیں۔آمین بالجہر کو ہم پسند کرتے ہیں لیکن یہ موقوف ہے انسان کی دلی جوش پر۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ جب تعلقات شدید ہوں دل میں دعا کے لئے جوش اضطراب اور کرب ہو تو بے اختیار انسان چلّا اٹھتا ہے۔اگرچہ خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل ایسی اضطراری حرکات سے مستثنیٰ ہوتے ہیں ان کے دل میں جوش ،اضطراب، تذلل، انکسار سب کچھ ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور روتے چلّاتے ہیں لیکن پاس والا معلوم نہیں کرسکتا۔ہم کبھی بالجہر کرتے ہیں کبھی نہیںبھی، نماز دونوں طرح ہوجاتی ہے مگر سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے پر نماز نہیں ہوتی۔رفع یدین کو روایتًا قوی جانتے ہیں عملًا ترک بھی ثابت ہے۔حضرت اقد س علیہ السلام نے کی بھی ہے اور عام طور پر نہیں کرتے ہیں۔اور دونوں حالتو ں میں نماز کا ہو جانا مانتے ہیں۔۲۔اس طریق پر دعا مانگنا درست ہے اور نزول حوادث کے وقت ثابت ہے۔۳۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی موت شہادت ہے لیکن ایمان ایک ایسی شے ہے کہ اس کا پورا اور اصل حال خدا تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتاہے کہ کون مومن ہے کون نہیں۔۴۔غیرمسلمان کے ساتھ تو کسی کو بھی نماز پڑھنا جائز نہیں۔اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ ایک احمدی کو غیر احمدی کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں تو یاد رکھو کہ اگر احمدی امام ہو تو اس کے مقتدی خواہ غیر احمدی ہوںیا احمدی ایک احمدی ان میں شامل ہو کر نماز پڑھ سکتاہے لیکن اگر امام غیر احمدی ہو تو ایک احمدی کو اس کے پیچھے نماز پڑھنی نہیں چاہیے اس کے متعلق خود حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام