ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 225

۳۔حدیث صحیحہ سے ثابت کریں کہ حضرت مسیح علیہ السلام سفر کر کے محلہ خان یار شہر سری نگر میں آئے سوائے اس کے کہ احمدیوں کے پاس کیا ثبوت ہے کہ ایک تو مسیح کے نام سے سیاحت ٹپکتی ہے ایک کچھ قبر اس نام کی بتلائی جاتی ہے۔ما سوائے اس کے کوئی معتبر حدیث۔۴۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق کیا خیا ل ہے آیا وہ مصلوب ہوئے ہیں اگر ہوئے ہیں توآیا صرف صلیب پر لٹکائے گئے اور رہے وہ زندہ یا مصلوب ہونے کے معنے صلیب پر لٹکانے کے بعد موت بھی لاز می نتیجہ ہوتی ہے او ر آیت قرآن (النساء : ۱۵۸) کو کس طرح مطابق کیا جا تا ہے اور کیا معنے لئے جاتے ہیں؟ ۵۔خاتم النبیین رسول اللہ تھے تو پھر نبی ہونے کا دعویٰ کس طرح درست رہتا ہے؟ ۶۔ایک کا اعتراض یہ ہے کہ حدیث علم ظنی ہے کسی حدیث کا کوئی راوی معتبر یعنی تبع تابعین تک پہنچتا معلوم نہیں ہوتا۔گویا حدیث کو نا معتبر خیال کرتا ہے۔پھر کہتا ہے کہ اس ظنّی حدیث کو چھوڑ کرقرآن کریم سے مہدی دوراں وآمد مسیح موعود ثابت کرو۔گویا بمقابل اس کے مہدی اور مسیح کی نہ کوئی پیشنگوئی قرآن کریم میں ہے اورنہ حدیث معتبر (میں) ہے تو کس طرح آمد ہو سکتی ہے؟ جوابات ۱۔جناب سید عبد القادر صاحب اچھے لوگ تھے اور حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص کو اچھے لوگ اچھا کہیں وہ خدا کے حضور بھی اچھا ہوتا ہے اور یہ حدیث بخاری میں ہے۔رہی یہ بات کہ ان کی فضیلت کہاں تک ہے یہ موقوف ہے دلی تعلق پر جو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اوروں کے حالات سے سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی واقف نہیں۔پس حد مقرر کرنا انسان کا کام نہیں۔حج بیت اللہ میں امن شرط ہے۔آج کل تو عام حاجیوں کے لئے بھی امن نہیں اور امن میں مال اور جان دونوں داخل ہیں۔آپ نے شاید سنا ہوگا کہ اس سال کتنے لاکھ روپیہ لے کر حاجیوں کو کس قدر دکھ دیا گیاہے اور صد ہا قتل بھی ہو گئے اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ عیسائیوں کی ایک جماعت( مسلمان ہو کر) بیت اللہ کا طواف کرے گی اور مسیح بھی ان کے ساتھ طواف کرے گا۔کیونکہ