ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 217
سوال نمبر ۲۔انسان محدود ہے پھرغیر محدود زمانہ اس کے واسطے کیوں منسوب کیا جاتا ہے۔جواب۔انسان زمانہ ماضی کی طرف تو ضرور محدود ہے مگر زمانہ مستقبل کی طرف محدود ہے یا نہیں یہ ایک مسئلہ ہے جو بحث طلب ہے۔ہم اس کو مستقبل کی طرف محدود نہیں مانتے اس لئے ہم اس کے لئے غیر محدود زمانہ تجویز کرتے ہیں۔سوال نمبر۳۔اگر انسان کو زندگی پھر دی جاوے تو حیوانات کو کیوں نہ دی جائے گی خصوصًا جیسا کہ وحشی انسان اور بندر میں بہت تھوڑا فرق باقی رہ جاتاہے۔جواب۔یہ سوال تعجب انگیز ہے اسلام سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کو بھی زندگی دی جاوے گی اور بعض صورتوں میں حیوانات کو بھی۔وحشی انسان اور بندر میں تو زمین وآسمان کا فرق ہے۔ایک قابل ترقی اور اس لائق ہے کہ فائدہ جدیدہ حاصل کرے اور اس جدید فائدہ کی تعلیم اپنے بنی نوع کو کر سکے اور بندر میں یہ طاقت و قوت نہیں کہ جدید باتیں بنی نوع کو سکھاوے۔سوال نمبر ۴۔انسان کس شکل میں قیامت کے دن اٹھے گا اگراس کی ایک ہی شکل ہوئی تو نیکی کی خواہش جاتی رہے گی۔جواب۔ہر ایک انسان قیامت کے دن اپنی اس شکل میں اٹھایا جائے گا جس میں کہ وہ مرنے کے وقت تھا۔سو ا ل نمبر ۵۔انسانوں کی سی صفات خدا کی طرف کیوں منسوب کئے جاتے ہیں یہ ایک گستاخی ہے۔جواب۔بے ریب گستاخی ہے اور کوئی انسانی صفت خدا کی طرف ہرگز منسوب نہیں ہوتی اور ایسا کرنا گستاخی ہے اسلام میں کوئی صفت انسانی خدا کو نہیں دی گئی۔سوال نمبر ۶۔بچے کیوں مر جاتے ہیں یہ دانائی کی بات نہیں کہ بچے مارے جائیں۔جواب۔بچہ جب مر جاتاہے تو اس جسمانی مادہ کی کمی سے مرتا ہے جس سے وہ تیار کیا گیا تھا پھر اس کے واسطے بھی ترقی کا موقع ضرور ہے۔نور الدین بقلم فضل الرحمن (الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخہ ۷ ۱ ؍جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۶)