ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 213
اپنے فنا اور بقا دونوں حالتوں میں محتاج نہیں۔نہ فنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ بقا۔اس صورت میں فقیرے در فنا و در بقا صفت ہوگی اور قدوس موصوف اور مقولہ شیخ خود بخود آزاد بودی خود گرفتار آمدی یعنی ذات حق مرتبہ غیب الغیب میں سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔(العنکبوت : ۷) اور تنزل و اظہار کمال کے مرتبہ میں خود مقید ہو گئے جیسا کہ وارد ہے ؎ از تقاضاء حب جلوہ گری آمد اندر حصار شیشہ پری پھر اسی وجد میں فرمایا کہ دوسرا علم آیا اور مقطع کو اپنی زبان سے اعادہ فرمایا گفت قدوسی فقیرے الخ یعنی فرمایا قدوس رحمۃ اللہ علیہ نے جو ہمہ تن فقیر تھے کہ ذات مرتبہ فنا میں عالم سے آزاد تھے مرتبہء بقا میں خود گرفتار ہوگئے ہیں صورت میں فقیری صفت ہوگئے اور مقولہ در فنا و در بقا الیٰ آخرہ ہوگا اور خود بخود آزاد بودی خود گرفتار آمدی بطور لف ونشر مرتب کے ہوگا یہ صاحب ہمارے الہ آباد خاص کے رہنے والے تھے اور بہت نامی اور گرامی مولوی بھی تھے۔اجمیر میں ۱۸؍ رجب کو مجلس سماع میں اچانک ان کا انتقال ہوا۔نام نامی ان کا مولوی محمد حسین تھا۔پہلے بہت پابند شریعت تھے۔کعبۃ اللہ میں مولوی امداد اللہ صاحب مرحوم سے بیعت کی اور سماع اور قوالی کی طرف طبیعت ان کی راغب ہوگئی اور انجام یہ ہوا۔خاکسار رکن الدین احمدعفا عنہ بجواب سوال نمبر۱ یہ عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (الفرقان : ۷۲) پس اللہ تعالیٰ کے حضور، ایمان، اخلاص اور سچی توبہ نئی راہ دکھاتی ہے۔ہاں گذارہ کا خیال کرنا ایمانی کمزوری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو مومن کے واسطے ہزاروں راہ کھول دیتا ہے جیسے فرمایا۔(الطَّلاق :۳،۴ ) پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر تقویٰ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے واسطے ہر تنگی اور دکھ سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اس کو رزق اس قدر دیتا ہے کہ وہ حساب بھی نہیں کر سکتا۔