ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 201 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 201

میں عداوت اور بغض ڈال دیا ہے۔اس آیت سے بھی صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں قیامت تک بغض اور عداوت کا رہنا لازمی ہے لیکن اگر آیت  کے وہی معنے تسلیم کئے جاویں تو اس آیت کا مضمون صادق کس طرح ٹھہرے گا؟ پھر ایک اور آیت ہے  (المائدۃ : ۶۵) یہ آیت بھی اس مضمون کی ہے اور پھر ایک اور آیت  (ھود : ۱۱۹) بھی یہی ظاہر کرتی ہے۔ان تمام آیات پر یکجائی نظر کرنے سے یہ امر نہایت صفائی کے ساتھ کھل جاتا ہے کہ یہود اور عیسائیوں میں قیامت تک مخالفت اور عداوت باقی رہے گی لیکن اگر سب کے سب ایمان لے آئیں تو پھر ان آیات کی معاذاللہ تکذیب کرنی پڑے گی۔بلکہ قرآن مجید پر اعتراض کرنے کا موقع دینا ہوگا۔اور ہماری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ یہودی اور عیسائی باہم مل کس طرح سکتے ہیں کیونکہ یہودی مسیح کی نبوت تک کے بھی قائل نہیں بلکہ ان کو معاذاللہ ملعون ٹھہراتے ہیں اور عیسائی ان کو خدا بناتے ہیں اور تورات میں کسی خدا کے آنے کی کوئی بشارت دی نہیں گئی۔اگر بفرض محال مان بھی لیا جاوے کہ وہ تورات کو چھوڑ کر مسیح کو مان لیں گے تو وجہ اختلاف باقی نہ رہے گی۔اس کے علاوہ ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ یہودیوں نے اول مسیح کا انکار کیوں کیا؟ اس کی وجہ تو وہی ملاکی نبی کا صحیفہ تھا جس میں مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا کا آنا لکھا تھا اور یہی سوال علماء یہود نے مسیح سے کیا تھا۔جنہوں نے ایلیا کاآنا برنگ یوحنا بتایا۔اب ان کی دوبارہ آمد پر خواہ وہ بفرض محال آسمان سے بھی اترتے کیوں نہ نظر آجائیں یہودی جب تک ایلیا کو اترتا نہ دیکھ لیں گے کبھی مسیح کو مان ہی نہیں سکتے۔پس ایسا خیال نہ صرف قرآن کریم کی ان آیات کے متعارض اور مخالف ہے بلکہ عقلی دلائل اور مشاہدہ بھی اس کے خلاف ہے اور علاوہ بریں مسیح پر ایمان لانے سے مسلمانوں کو کیا فائدہ اور خوشی؟ اس میں یہ تو کوئی ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لاویں گے۔غرض یہ معنے جس رنگ اور پہلو سے دیکھو غلط ہیں۔اس لئے ضروری ہوا کہ اس آیت کے وہ معنے کئے جاویں جو قرآن کریم کی کسی آیت کے متعارض واقع نہ ہوں بلکہ مصدق اور موید ہوں۔چنانچہ وہ معنے ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں ان معانی میں کسی