ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 200 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 200

اعتراض کرتے ہیں اور افسوس سے کہا جاتا ہے کہ اکثر مسلمان بھی ان اصولوں سے ناواقف ہیں ورنہ ہم جو کچھ حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق استشہاد قرآنی پیش کرتے ہیں ان کے سمجھنے میں انہیں دقت نہ ہوتی۔مثال کے طور پر آپ اسی آیت کو لیجئے جس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔جو معنی ہمارے مخالف اس آیت کے کرتے ہیں کہ ہر ایک اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آئے گا۔یہ معنے اگر کئے جاویں تو اس سے ایسی قباحت لازم آتی ہے جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں ہو سکتا اور قرآن مجید میں عظیم الشان اختلاف پیدا ہوجاوے گا۔حالانکہ قرآن کریم کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی یہ زبردست دلیل ہے کہ اس میں اختلاف نہیں جیسا کہ فرمایا ہے  (النساء : ۸۳) کیونکہ اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ مسیح کے آنے پر سب اہل کتاب اس پر ایمان لے آئیں گے۔اب جائے غور ہے کہ کیا مسیح کی آمد ثانی پروہ سب اہل کتاب جو اس وقت سے پہلے مرچکے ہوں گے۔پھر زندہ ہوجائیں گے؟ جو صریحاً باطل ہے۔اور کوئی مسلمان ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا اور اگر یہ ہو کہ صرف اس زمانہ کے اہل کتاب ایمان لائیں گے تو پھر کُل کُل نہ رہا۔پھر دوسری خرابی ایسے معنے کرنے میں یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو بطور وعدہ بشارت دیتا ہے  (اٰل عمران : ۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غالب رکھے گا۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ قیامت تک مسیح کے منکروں کا وجود بھی رہے۔پھر اس آیت کے یہ معنے کس طرح صحیح ہوں گے؟ اس کے سوا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (المائدۃ : ۱۵) یعنی ہم نے قیامت تک عیسائیوں اور یہودیوں