ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 191

لیں گے کہ اس کے حملہ کس طرح ترتیب سے ہر ایک محلہ میں اور ہر طبقہ انسانی پر ہوتے ہیں اور جس طرح سے ایک سرکاری افسر مدارج اور ترتیب کو مد نظر رکھ کر حکام بالا کے احکام کی تعمیل کرتا ہے ویسے ہی بڑے امتیاز اور حفظ مراتب کے ساتھ یہ بھی لوگوں اورمحلّوں کو انتخاب کرتی ہے۔عنوان مذکورہ بالا سے ہماری صرف یہ غرض ہے کہ ہم دکھلاویں کہ جب کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے تومنشاء ایزدی کیا ہے کہ اگر وہ پورا کر دیا جاوے تو خدا تعالیٰ اس سے دنیا کو محفوظ رکھ لیوے۔مذکورہ بالا سوال کا جواب حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب نے اپنی ایک تقریر میں دیا ہے جسے ہم اپنے الفاظ میں ذیل میں درج کرتے ہیں۔نزول عذاب پرارادہ ایزدی قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اس قسم کے عذاب دنیا پر ناز ل ہوتے ہیں تو سرکاری منشا (ارادہ ایزدی) یہ ہوتا ہے کہ لوگ تضرع کریں۔اس منشا ء سرکاری کا علم ہونے کے لئے یہ امر ضروری نہیں ہے کہ کوئی مامور بھی اس وقت دنیا میں موجود ہو لیکن اگر کوئی مامور بھی موجود ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ ایک سخت پکڑ پکڑنا چاہتا ہے۔تکالیف اور مصائب اور شدائد میں مبتلاہوکرخود انسان کا دل تضرع کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ فطرت انسانی بھی بذات خود خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے جو کہ منشاء سرکاری سے ایسے اوقات میں اسے آگاہ کرتی ہے۔آتشک اور سوزاک میں مبتلا انسان کو فطرت بتلاتی ہے کہ تو نے بد عمل کیا اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آئندہ تو اس سے بازآ۔وہ دل میں ملامت کرتا ہے۔نادم ہوتا ہے۔حالت بیماری میں اقرار کرتا ہے کہ اب آرام ہو جاوے تو پھر زنا نہ کروں گا،(صحت پا کر وہ پھر کیوں کرتا ہے یہ امر ہماری بحث سے سر دست خارج ہے۔)گویا ایک طرف سے فطرت انسانی بھی خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کا علم دینے کے لیے ایسا بشیر اور نذیر ہے جو کہ ہر وقت انسان کے اندر موجود ہے لیکن چونکہ یہ کامل رہبر نہیں ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے کتب سماوی اور انبیاء اور رسل کے ارسال کرنے کا سلسلہ بھی دنیا میں قائم کررکھا ہے تاکہ ہدایت اور نجات کی راہ میں کسی قسم کا سقم باقی نہ رہے۔کتب سماوی اور انبیاء کے نزول سے بھی منشاء سرکاری یہی ہوتا ہے کہ ہلاکت اور نجات کی راہوں کا علم کامل طور پر حاصل ہو