ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 167

مکتوبات جان من۔السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ تمہارے فرحت بخش خط میں اب تک تکدر معلوم ہوتا ہے۔میں تمہارا دعا گو آگے عذر کر چکا ہوں۔مگر میری بدقسمتی سے پذیرا نہ ہوا۔اچھا اب سہی۔فصل الخطاب کو ایک بار اچھی طرح پڑھ لو اورقرآن کریم بہت پڑھو اور نمازباجماعت ادا کیا کرو۔تاکید ہے۔میں انشاء اللہ تعالیٰ دو مہینے تک قادیان میں بیعت کے واسطے جاؤں گا۔تیرا سچا دعا گو۔نورالدین۲۱ ماگھ یکم فروری ۱۸۸۹ء ……………… عزیز من۔السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ تمہارے دوست ومحب نے لودھیانہ میں دوسری شادی کر لی مبارک ہو۔حضرت مرزا صاحب قادیان سے برات میں لودھیانہ رونق افروز ہوئے۔اور ۲۰ ؍مارچ کے جلسہ بیعت میں انشاء اللہ تعالیٰ یہ خاکسار بھی شریک ہو گا۔کل حضرت امام الوقت مرزا صاحب کو عرضی لکھ دی ہے جواب پر مفصل عرض ہو گا۔۷؍مارچ ۱۸۸۹ء ……………… ارشد ارجمند حَفِظَکَ اللّٰہُ وَ سَلَّمَ۔السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔بھلا خفگی کی کوئی وجہ بھی۔بھلا اس قدر فراموشی آپ کے اور میرے للہی محبت کے درمیان جائز ہے۔پیارے عزیز۔میرا اور آپ کا تعلق روحانی ہے قابل انقطاع نہیں۔آگے تم جانو۔سناؤ اشاعت قرآن شریف اور حدیث میںاب آپ کس قدر ساعی ہیں۔والسلام ……………… ارشد ارجمندحَفِظَکَ اللّٰہُ وَ سَلَّمَ۔السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔مدت کے بعد تمہارا فرحت نامہ مہجور دور کو پہنچا۔پیارے! سفر بھی کوئی عذر ہے۔کیاڈاک