ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 159
جو کچھ ابراہیم پر وارد ہوا وہ بھی بلا قربانی ٹل نہیں سکتا تھا اگرچہ ہزاروں مویشی ساتھ تھے مگر لڑکے کی قربانی کوئی تھوڑی سی بات نہ تھی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بات بہت ہی عظیم الشان ہو گی جس کے لئے بیٹے کی قربانی تجویز ہوئی۔اس منٰی میں یہ ابراہیمی نمونہ تھا کہ قربانی کرے اور بچہ کا نمونہ یہ ہے کہ اس نے کہا کہ جو حکم ربی ہوا ہے وہ جلدی کر اور گردن آگے رکھ دی۔شیطان کو کنکر مارنے میں حکمت عوام الناس جو کہ الٰہی رموز سے واقف نہیں ہوتے وہ ایسے وقت اعتراض کرتے ہیں۔اسی طرح اس وقت کسی نے اعتراض کیا کہ ابراہیم کی عقل ماری گئی ہے یہ آخری عمر اور بڑھاپا ایک اولاد۔آگے اب امید نہیں۔ایک خواب کی بنا پر لڑکے کو ذبح کرنے کو تیار ہے لیکن ابراہیمی فراست اور ایمان کے آگے اس اعتراض کی کیا وقعت تھی اور یہ لوگ اپنی توجہ اور ارادہ کے بڑے پکّے ہوتے ہیں اور جو مخالفت کرے وہ سخت دشمن ہوتا ہے اس لئے آپ نے اٹھا کر اسے پتھر مارا کہ تو ہمارے ارادے کو روکنے والا کون ہوتا ہے یہ اس قسم کی رکاوٹیں ہیں کہ جب مومن کو خدا سے تعلق ہوتا ہے تو ضرور ہی پیدا ہوا کرتی ہیں تو وہ کنکر ہیں جو اس مقام پر عاشقانہ نیاز مندی میں مارے جاتے ہیں مگر چونکہ مومن کی توجہ جب ایک کام کی طرف رہے تو وہ اسے بار بار کرتا ہے اور روک بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں اس لئے ہربار ابراہیم علیہ السلام اسے دھتکارتے رہے۔ایک اور نیازمندی یعنی ایمان اسلام کے پانچ ارکان ہیں جن میں سے نماز ، زکوٰۃ، روزہ اور حج جس نیاز مندی میں داخل ہیں ان کا بیان کر دیا۔ایک نیاز مندی یعنی ایمان کا ذکر نہیں ہوا وہ بھی اسی میں داخل ہے۔اللہ پر ایمان لانے کے یہی معنے ہیں کہ جب انسان دل لگاتا ہے تو اسے کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہم بھی کسی کے ہیں پھر اس دعویٰ کو نبھانے اور اس کے تقاضا کو پورا کرنے کے واسطے باقی نیاز مندیاں ہیں۔