ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 113
غرض عورت کسی صورت میں ولی نہیں۔مہر کے بدلے لڑکی کبھی نہیںہو سکتی۔یہ ہبہ ناجائز ہے۔پیارے عزیز ! خدا خدا ہے اور رسول رسول۔مدینہ طیبہ رَزَقَنَا اللّٰہُ اِقَامَتَھَا وَ جَوَارَہَا بڑی پاک جگہ ہے۔الَّا مدینہ کا جانا رکن حج نہیں کسی مذہب والے نے نہیں لکھا۔حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی۔ظاہر ہے محدث لوگوں کی کتابیں موجود ہیں۔شیخ صاحب عنایت فرما کا فرمانا خلاف تحقیق ہے صرف خیالی امر ہے اور خیال بھی صرف شیخ صاحب کا۔حج کے احکام ضروری قرآن شریف میں موجود ہیں وہاں مدینہ جانے کا ذکر بھی نہیں۔بلکہ سچ پوچھو تو کوئی دلیل نہیں جس سے کسی حالت میں بھی مدینہ طیبہ کا جانا فرض نکلتا ہو۔ہاں ہجرت کے واسطے اس وقت جب دین صرف حجازمیں رہ جاوے گا ایک وقت مدینہ طیبہ جانے کا ضروری معلوم ہوتا ہے۔الّا وہ صرف حجاز کا لفظ ہے جس میں مکہ معظمہ مدینہ طیبہ دونوں میں سے جس میں چاہیں رہ سکتے ہیں۔فرضیت مدینہ طیبہ جانے کی دلیل قرآن شریف سے، حدیث صحیح سے، عقل سے، اجماع سے شیخ صاحب کو لانی چاہیے اگر نکلے ہم ان کے ممنون ہو کر ایک دفعہ ضرور بغرض فرض اور اس رکن کے بہ نیت فرض سفر کریں گے اور ثواب شیخ صاحب کو حاصل ہو گا۔خاکسار نورالدین عفا اللہ عنہ رفع الزام ایک مرتبہ مخالفین نے حضرت حکیم الامت کے متعلق مشہور کیا کہ آپ نے معاذ اللہ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قطع تعلق کر لیا ہے۔اس پر ہمارے ایک محترم بھائی سید سرور شاہ صاحب نے حضرت حکیم الامت سے اس کے متعلق استفسار کیا۔اس کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا اسے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔(ایڈیٹر الحکم) مکتوب نمبر۲ یہ خط سید سرور شاہ صاحب کے اس خط کا جواب جبکہ سید صاحب نے مخالفین سے یہ سنا تھا کہ مولوی نور الدین مرزا سے منکر ہوگیا ہے۔استفسار کیا تھا۔