ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 112
شخص سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے قرآن شریف کا دھیان رکھے گاوہ کے نیچے کام کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر کشف حقائق کر دیتا ہے۔مختصر یہ کہ یہ ترکیب یا عمل مجاہدہ اور سعی فی الدین کے ماتحت ہے اور یہ مجاہدہ بجائے خود منحصر ہے تقویٰ پر۔پس اس سے ہر گز دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ فاسق فاجر بھی فائز المرام ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں اسے کبھی راہ نہیں مل سکتی۔(ایڈیٹر الحکم) مکتوباتِ حکیم الامت ذیل میں جو خط آپ کا درج کیا جاتا ہے اس خط میں مسئلہ ولایت کی تحقیقات کی گئی ہے اور اس کے آخری حصہ میں آپ کی قرآن شریف سے محبت اور عشق کا ثبوت ملتا ہے اور حفظ قرآن کے زمانہ کا پتہ لگتا ہے۔بالفعل ہم کو ان خطوط اور ارشادات کے اندراج سے ان منتشر امور کو یکجا جمع کرنا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی تو ہم ان امور کو سوانح کی صورت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس وقت ان کی ترتیب پڑھنے والوں کے لئے امید کی جاتی ہے انشاء اللہ العزیز بہت دلچسپ ہوگی۔ہم اپنے ناظرین سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی خط حضرت حکیم الامت کا ہو وہ ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہونچے۔(ایڈیٹر الحکم) مکتوب نمبر۱ پیارے۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ ولایت دو قسم ہے ایک ولایت تربیت حضانت( دودھ پلانا لڑکپن میں رکھنا) دوسرے ولایت مال اور نکاح کی تربیت اور پالنے میں عورت ولی ہے۔تزویج اور نکاح میں عورت کو ولایت نہیں باپ ہی ولی ہے اگر موجود ہو اگر نہ ہو تو دادا چچے لڑکی کے اور بھائی غرض لڑکی کے باپ والی۔عورت کسی طرح ولایت نکاح نہیں رکھتی۔عورت نے اگر نکاح کر دیا تو باپ اعتراض کر سکتا ہے۔ہاں خود لڑکی اگر بالغ ہو اعتراض کر سکتی ہے۔محدثین کے مذہب میں باپ کا نکاح کیا ہوا لڑکی کی عدم رضا میں ٹوٹ سکتا ہے الَّا لڑکی بھی بدون مرضی باپ کے نکاح نہیں کر سکتی