واقفین نو

by Other Authors

Page 20 of 21

واقفین نو — Page 20

(تربیت سبھانا نہیں کیا جاتا۔اگر پہلے جیلی تقاضوں کو نشو و نما ( ALOUP / S4) پانے کا موقع دیا جائے اور کوئی روک ٹوک نہ ہو تو بعد میں ان کو قابو کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی فضا میں ایک درکہ پر برتری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔مگر یہ معاملہ میں کی لاٹھی اس کی بھینس کا سا ہو جاتا ہے۔پھر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے۔اس فضا میں لیڈر بنتے ہیں۔سارے تو یہ نہیں بن سکتے جس میں فطری رحجان ہوگا اس کو منا سبب ماحول ملے گا تو وہی بن سکے گا۔اور اگر سارے لیڈر بن بھی جائیں تو سب پاکستانی لیڈر نہیں گے۔افہام و تفہیم، در گذر ، وقت کا تقاضا ان کی سمجھ سے بالا تر ہو گا۔ہمیں جیلی تقاضوں کے سیلاب بننے سے قبل ہی بند باندھنے ہوں گے۔یہی تربیت کا زمانہ ہے۔کیونکہ بچوں کو آزاد چھوڑنے سے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ منفی پہلو بھی پہنیں گے اور زور پکڑیں گے۔مثبت پہلوؤں کو ( TPACE) تلاش کر کے ان کو ابھارتا ہوگا اور منفی پہلوؤں کی حوصلہ سکتی کرنی ہوگی۔استاد کو بڑی ہوشیاری سے یہ دیکھنا ہو گا کہ کون سا بچہ غصے سے بے قابو ( AGRESSIVE ) ہو رہا ہے۔اسے تھوڑا (UNDER PRESSURE) دربار میں رکھتا ہو گا۔کون سا چہ دباؤ کا شکار ہو رہا ہے اُسے حوصلہ دلانا ہوگا اور ENCOURAGE کرنا ہوگا۔ہر بچہ کو انفرادی توجہ دے کر اس کی ذہنی صلاحیت و جسمانی قوت کو اس کی استطاعت کے مطابق استعمال کرنا ہوگا۔جو ٹیسٹ کے بغیر بھی گہرے مشاہدے سے معلوم ہو جاتا ہے جب بچے کلاس میں ہوں یا کھیل رہے ہوں کہ کون سے سمجھ میں کون سی صلاحیتیں نظر آ رہی ہیں۔