انسان کامل

by Other Authors

Page 21 of 30

انسان کامل — Page 21

۲۱ چند دنوں تک ہم بھی ان سے ملنے والے ہیں۔اسلئے چند روزہ جدائی کے بعد پھر ہمارے بچھڑے ہوئے ہم سے مل لینگے۔اور تھوڑے سے وقفہ سے آگے پیچھے جانے والے آپس میں ملاقات کر کے دائمی وصل کا شربت پیئیں گے۔ایسی کیا سی عجیب نمونہ ہے۔جو اولاد کی وفات پر حضور نے پس دکھایا۔لکھا ہے کہ حضور اپنی ایک جوان بیٹی کی قبر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگیں۔کسی نے کہا۔کہ حضور نبی ہوکر یہ عظیم ؟ آپ نے فرمایا۔یہ جذبہ تو رحمت و شفقت ہے۔جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔آنحضرت کے اکلوتے بیٹے کی وفات آپ کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہونے لگتا ہے۔جو کہ آپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔عین نزع کی حالت میں آپ کی گود میں دیا جاتا ہے۔آپ کی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔اس پر عبد الرحمن بن عوف نے تعجب کا اظہار کیا۔آپ نے فرمایا۔عوف کے بیٹے ! یہ تو رحمت و رافت ہے اور فرمایا۔العَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزُنُ وَلَا نَقولُ الأَمَا يَرْضى به ربَّنَا - یاد رکھو۔صبر کا جو کام نمونہ حضور علیہ السلام نے دکھایا۔وہ ان تمام لوگوں کیلئے نمونہ ہے۔جین کے لخت جگر خدا کی مصلحت کے تحت ان سے بعدا کرلئے جاتے ہیں۔بطور جرنیل اور فاتح کے کامل نمونہ پھر آپ نے جنگیں کیں۔اکثر فاتح ہوئے کبھی فوج کے قدم بھی اکھڑ گئے۔تینوں حالتوں میں آپ نے وہ نمونہ دکھایا۔جو ایک جنگجو، ایک فاتح اور ایک شکست خوردہ کیلئے کامل نمونہ ہے۔آپ جنگ کرتے تو سخت حکم تھا۔کہ کوئی عورت نہ ماری جائے بچے نہ مارے جائیں۔بوڑھوں سے تعرض نہ کیا جائے۔درویشوں راہوں ، تارک الدنیا لوگوں کو کچھ نہ کہا جائے۔دیکھو ! کسی کو آگ سے نہ بھلایا جائے۔دیکھو ! نہ جانور قتل کرنا۔نه درخت کاٹنا۔یاد رکھو! اپنے مخالفوں کی طرح کسی دشمن مقتول کے ناک، کان نہ کاٹنار جنگ احد میں جبکہ کفار نے مسلمان شہدا کے ناک کان کاٹ دیئے۔یہاں تک کہ آپ کے واجب العزت بچا ہمزہ کے ناک کان کاٹے گئے۔پیٹ پھاڑ کر جگر لے ترجمہ :۔آنکھ آنسو بہاتی ہے۔اور دل غمگین ہے۔اور ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو۔۔