انسان کامل

by Other Authors

Page 11 of 30

انسان کامل — Page 11

دور کرنا چاہیے۔سو بے شک ہم آپ کی زندگی کا دور غربت سنہرے حروف میں اور حالی قلم سے لکھا ہوا دیکھتے ہیں اور ہر غریب کیلئے اس میں کاس نمونہ اور بے نظیر اسوہ پاتے ہیں۔سنو ! دنیا میں بہت غریب بالخصوص خاندانی لوگ اس لئے غربت کا شکار ہیں کہ وہ محنت نہیں کرتے۔انہیں اگر کوئی کام بھی ملتا ہے تو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔مر جائیں گے۔مگر مزدوری نہ کریں گے۔قومیں ترقی کر رہی ہیں، غریب امیر ہو رہے ہیں۔صنل اور لیبر دنیا میں بادشاہ بن رہے ہیں لیکن یہ اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔مگر کروڑوں کروڑ درود و سلام اس غریب پر کہ سب سے معزز اور خاندانی اور عبد المطلب کا بیٹا ہو کر اس وقت جبکہ بادشاہ ہو گیا ہے۔فخر محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے۔وَلَقَدْ رَعَيْتُ لِاَهْلِ مَكَة عَلى قَرَارِيسک۔کہ میں چند پیسوں کے عوض مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔سبحان اللہ العظیم اور اپنی امت کو صاف اور معین الفاظ میں بار بار کہتا ہے کہ سب سے افضل کھانا وہ ہے جو اپنے ہاتھ کی ثالی کا ہو اور فرماتا ہے کہ داؤد نبی بھی اپنے ہاتھ کی صنعت کی کمائی سے کھاتے تھے۔پھر امت کو ڈرانے کے لئے کہتا ہے۔اللّهُمَّ اِنّي اَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَانكَسل - الى مُجھے سُستی سے نکما رہے ہے اور بیکار رہنے سے بچا۔پھر اپنی امت کے ایک شخص کو بلا کر کہتا ہے کہ یہ کلہاڑی لے اور جنگل میں جا اور لکڑیاں کاٹ کر پیٹھ پر لاد کر شہر میں لا اور بیچ۔اور دیکھ خبردار کسی سے کچھ نہ مانگنا۔پھر بالا بچپن میں بکریاں چرانے کے بعد حضور ایک مالدار بیگم کے پاس جاتے ہیں، اور مرد ہو کر عورت کی اور معزز ہو کر اپنے سے کم درجہ کے خاندان کی عورت کی ملازمت اختیار کرتے ہیں اور دوسرے ممالک میں جاکر تجارت کرتے ہیں ، اور اس طرح بکریاں چرانا۔ملازم ہونا ، تجارت کرنا۔تینوں پیشے اختیار کر کے دنیا کے غریبوں پر یہ ظاہر کرتے ہیں۔کہ دیکھو انسان کے لئے سوائے خدا کی نافرمانی کے اور کسی کام میں عیب نہیں۔کاسش ! مسلمان غرباء اس نصیحت پر عمل کرتے۔مگر افسوس کہ یورپ والوں نے عمل کیا ، اور آج یورپ کے موچی جلا ہے ، نہار دوکاندار یہ چاروں گروہ تمام دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔لیکن مسلمان بھوکے مر رہے ہیں۔اور اپنے نبی کے حکم پر عمل نہیں کرتے۔پھر یاد رکھنا چاہئیے کہ غربت کے نتیجہ میں کچھ عیب پیدا ہو جاتے ہیں مثلاً سوال کرنا۔چوری کرنا حرص کرنا۔خیانت کرنا۔قرض لے کر ادا نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔مگر ہمارا پیشوا با وجود غنر کے ان تمام نقائص سے پاک تھا۔صاف لکھا ہے کہ رسول مقبول صلے اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔بلکہ آپ نے سوال سے اپنے دوستوں کو اتنا منع کیا۔کہ کسی صحابی کا کوڑا گر جاتا۔تو وہ خود گھوڑے سے اتر کر اٹھاتا۔پاس والے سے نہ مانگتا۔چوری اور خیانت اور حرص کا کیا کہنا۔آپ تو بچپن سے