انسان کامل — Page 10
دادا اور بزرگوں کے کامل فرمانبردار تھے۔آوارہ نہ پھرتے تھے۔گالی گلوچ کی عادت نہ تھی۔پس آپ دنیا کے ہر یتیم کے لئے نمونہ ہیں : آنحضرت والدین والے بچوں کیلئے کامل نمونہ یہاں پر ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہہ دے کہ حضور یتیم تھے اس لئے دنیا کے تمام مقیمیوں کے لئے تو بے شک حضور نمونزین سکتے ہیں۔لیکن جو لڑکے یتیم نہیں بلکہ ان کے باپ زندہ ہیں اور وہ اپنے باپ کی خدمت اور فرمانبرداری اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ان کے لئے حضور کسی طرح نمونہ بن سکتے ہیں۔کیوں کہ حضور نے تو باپ کا زمانہ پایا ہی نہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضوران بچوں کے لئے بھی ویسا ہی نمونہ ہیں جیسا کہ حضور تیمیوں کے لئے۔کیونکہ گو حضور کے والد فوت ہو چکے تھے مگر باپ کی بجائے دادا اور چچا موجود تھے اور آپ آنے ان کی ایسی فرمانبرداری اختیار کی تھی کہ کوئی شخص باپ کی بھی نہیں کر سکتا۔پس ان بچوں کے لئے بھی آپکا نمونہ ہیں جو یتیم نہیں۔کیونکہ وہ حضور کے ان حالات کو پڑھ کر حین میں حضور نے اپنے جدہ امجد اور عم معظم کی کامل اور پوری اور قریباً ساری عمر خدمت کی ہے۔آپ کو اپنے لئے نمونہ بنا سکتے ہیں۔پس کیا عجیب اتفاق ہے کہ آپ کے والد فوت ہو جاتے ہیں تاکہ آپ یتیموں کے لئے نمونہ ہوں اور زاوا زندہ رہتے ہیں تاکہ آپ " باپ والے بچوں کے لئے خدمت اور فرمانبرداری کا نمونہ بن سکیں : آنحضرت غریبوں کیلئے کامل نمونہ یہاں پر دل چاہتا ہے کہ حضور کی قیمی کے زمانہ کے حالات اور دادا اور چاکی فرمانبرداری کے واقعات تفصیل سے لکھوں۔مگر افسوس کہ گنجائش نہیں۔مضمون حد سے بڑھ رہا ہے اس لئے مجبوراً اسے چھوڑ کر آگے بڑھتا ہوں۔اور بجائے تفصیل اور کسی ترتیب کے کسی کسی جگہ سے حضورہ کی کتاب حیات کے ورق گردانی کرتا ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ لکھا ہوا ہے کہ آپ غریب تھے۔اور غریب بھی ایسے کہ جس کا کوئی گزارہ نہ ہو۔دادا فوت ہو چکے ہیں۔چچا کو نہایت معزز ہے۔مگر جتنا معزز ہے۔اتنا ہی غریب اور کثیر العیال بھی ہے۔اپنا گزارہ بھی نہیں کر سکتا۔یہ پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ الحمدللہ ہم غریبوں کی مشکل آسان ہوئی۔اب ہم آپ کی زندگی کا مطالعہ کر کے معلوم کریں گے ، کہ غرباء کو کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔اور کسی طرح غربت کی جلن سوزش اور تکالیف کو برداشت یا مقابلہ کر کے