انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 54

انقلاب حقیقی اب یہاں یقینی طور پر یوم قیامت سے مراد دنیا کا کوئی واقعہ ہے کیونکہ یوم قیامت اور نفس لوامہ دو چیزوں کو مُردے جی اُٹھنے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔اگر یومِ قیامت سے دنیا کی ہلاکت کے بعد کا یوم قیامت مراد ہو تو یہ گواہی بے فائدہ ہو جاتی ہے کیونکہ جو امر مرنے کے بعد ظاہر ہوگا اُس سے اس دنیا کے لوگ اپنے ایمان کی درستی میں کیا مدد لے سکتے ہیں؟ بحث تو اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیا مُر دے پھر جی اُٹھیں گے؟ اور معترضین کو یہ کہہ کر تسلی دلائی جاتی ہے کہ مردوں کے جی اٹھنے میں تم کو کیا شک ہو سکتا ہے کیا قیامت کا دن اس پر شاہد نہیں ہے؟ اس دلیل سے کون سا انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ جب قیامت آئے گی اُس وقت تو سب انسان ختم ہو چکے ہوں گے۔پھر یہ دلیل کس کے ایمان کو نفع دے گی ؟ اعتراض تو زندہ لوگوں کو ہے ان کے لئے نفع مند دلیل تو وہی ہوسکتی ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہو۔پس اس جگہ قیامت کے دن سے مراد کوئی ایسی ہی چیز ہونی چاہئے جو اسی دنیا میں ظاہر ہونے والی ہوتا کہ منکرین قیامت پر اس کے ذریعہ سے محبت بھی ہو اور ان کے ایمان کے لئے بھی اس سے راستہ کھلے۔عالمگیر قیامت کا دن تو اُسی وقت دلیل قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ بعض لوگ خود قیامت کے دن اس کے وجود سے انکار کریں۔اُس وقت بیشک یہ دلیل معقول ہو سکتی ہے کہ تم مرکر دوبارہ زندہ ہوئے پھر کس طرح قیامت کا انکار کر سکتے ہو؟ لیکن اس دنیا میں وہ کسی صورت میں بھی دلیل نہیں بن سکتی۔پس جن لوگوں نے اس جگہ مراد قیامت کبری کے معنی لئے ہیں یا تو انہوں نے صرف ایک منفرد آیت کے معنی کر دیئے ہیں اور انکی یہ مراد نہیں کہ سیاق و سباق کو ملا کر بھی اس آیت کے یہ معنی ہیں اور یا پھر سیاق و سباق پر انہوں نے غور نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا کا ہی ایک واقعہ ہے جو قیامت گبری کی دلیل ہے جسے نفس 54