انقلابِ حقیقی — Page 34
انقلاب حقیقی عمارتیں بنایا کرتے تھے اور وہ یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيْعِ آيَةً تَعْبَثُونَ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ۔وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ فرماتا ہے عاد قوم سے مخاطب ہو کر ہم نے کہا تھا کہ تم لوگ ہر پہاڑی پر شاندار عمارتیں بناتے ہو اور بڑی بڑی فیکٹریاں اور کیمسٹری کے مرکز تیار کرتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ تم ہمیشہ قائم رہو گے جیسے یورپ کے لوگ آج کل یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی تہذیب ہمیشہ قائم رہے گی۔(مصانع سے مُراد فیکٹریاں اور کیمیکل ورکس ہیں ) پھر فرمایا جب تم کسی ملک پر غلبہ پاتے ہو تو تم اُس جگہ کی تہذیب کو بالکل تباہ کر دیتے ہو اور ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی جگہ اپنی تہذیب اور اپنا تمدن قائم کرتے ہو۔(بہار کے معنی ہیں دوسرے کو نیچا کر کے اپنے آپ کو اونچا کرنے والا۔اور ایک مطلب یہ ہے کہ دوسری اقوام کے تمدن اور تہذیب کو تباہ کر کے اپنے تمدن اور تہذیب کو دُنیا میں قائم کرتے ہیں) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ سے یہ استنباط بھی ہو سکتا ہے کہ آلات جنگ کی ایجاد کا کمال انہیں کے زمانہ میں ہوا۔چنانچہ جس رنگ میں انہوں نے پہاڑوں میں عمارتیں بنائیں ہیں ، ان سے بعض مؤرخین نے نتیجہ نکالا ہے کہ اس قوم نے بارود اور ڈائنامیٹ ایجاد کر لیا تھا۔ان معنوں کی رُو سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسے ایسے سامانِ جنگ ایجاد کرتے ہو جو نہایت ہی مہلک ہیں اور تم ان کے ذریعہ سے باقی اقوام کو تباہ کر کے اپنی تہذیب اور اپنا تمدن قائم کرنا چاہتے ہو۔تہذیب مغربی کا فلسفہ موجودہ مغربی تہذیب کی بنیا دبھی ایک فلسفہ پر ہے اور وہ فلسفہ ما دیت کا فلسفہ الشعراء: ۱۲۹ تا ۱۳۱ 34