انقلابِ حقیقی — Page 15
انقلاب حقیقی لی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس لیکچر میں زمین کے گول یا چپٹے ہونے کا ذکر نہیں۔وہ کہنے لگا ہو یا نہ ہوایسی اہم بات کا ذکر کس طرح چھوڑا جا سکتا ہے؟ غرض اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں مگر بہت کم لیکن پہلے زمانہ میں سوائے مسلمانوں کے قریباً سب لوگ یہی کہا کرتے تھے کہ زمین چپٹی ہے۔مسلمانوں میں البتہ زمین کے گول ہونے کا خیال رائج تھا اور یورپ کے لوگ اس کے مخالف تھے۔چنانچہ جس وقت زمین کے گول ہونے کا سوال اُٹھا یورپ کے لوگوں نے اس کا نہایت سختی سے انکار کیا اور اس کی مخالفت کی مگر مسلمانوں میں یہ خیال دیر سے قائم تھا اور انہی سے اس قسم کی باتیں سُن کر کولمبس لے ے کو امریکہ کی دریافت کا خیال پیدا ہوا تھا کیونکہ کولمبس کسی مسلمان کا شاگر دتھا اور وہ مسلمان حضرت محی الدین ابن عربی کے مرید تھے جنہوں نے اپنے بعض رؤیا و کشوف کی بناء پر اپنی کتابوں میں یہ لکھا تھا کہ سپین کے سمندر کے دوسری طرف ایک بہت بڑا ملک ہے اور چونکہ مسلمانوں میں زمین کے گول ہونے کا خیال جڑ پکڑ رہا تھا حضرت محی الدین ابن عربی کے مُرید خیال کرتے تھے کہ غالباً ہندوستان ہی کی طرف آپ کے کشف میں کولمبس COLUMBUS CHRISTOPHER (۱۴۵۱ء۔۱۵۰۶ء) امریکہ کو دریافت کرنے والا۔بڑی منت سماجت کے بعد شاہی امداد حاصل کی اور اٹھاسی آدمیوں کے ساتھ تین جہازوں سانتا ماریا، پینتا اور نینا میں ہسپانیہ سے ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ء کو روانہ ہوا اور جزیرہ سان سالویڈ ور امریکہ جا اترا۔دوسری مہم میں اس کی دریافتیں پورٹوریکو، جزائر ورجن جیمی کا پر مشتمل تھیں۔تیسرے سفر (۱۴۹۸ء) میں اس نے وینز یو یلا میں اور نوکو کا دھانہ دریافت کیا۔بیٹی کی ایک نو آبادی میں اس کے نظم و نسق کا نتیجہ یہ ہوا کہ پابہ زنجیر ہسپانیہ واپس آیا۔چوتھی مہم (۱۵۰۲ء) میں جو وقار کی بازیافت کیلئے تھی۔ہانڈ ور اس کے ساحل تک پہنچا مگر اتنی مشکلات پیش آئیں کہ مجبوراً واپس جانا پڑا۔کسمپرسی کی حالت میں مرا۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۲۳۶۔مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) 15