انقلابِ حقیقی — Page 11
۔انقلاب حقیقی تو کہے گا کہ میرے لئے یہ بات اُسی وقت سے حل شدہ ہے جب سے وہ میرے گھر میں بس رہی ہے۔(الفضل ۲۰ ؍ دسمبر ۱۹۳۸ء) آج جس مضمون کو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ عجیب نوعیت کا ہے یعنی ایسا ہے کہ اگر چاہوں تو ایک فقرہ کہ کر بیٹھ جاؤں اور مضمون ختم ہو جائے اور اگر چاہوں اور اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کئی دن بارہ بارہ گھنٹے تقریریں ہوتی رہیں مگر یہ مضمون ختم نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں چار پانچ گھنٹے میں ایک حد تک اس مضمون کو بیان کر دوں۔سو وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس آخری اور وسطی طریق کو ہی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں وَاللهُ الْمُوَفِّقُ قومی زندگی کے قیام کے اصول سب سے پہلے میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جماعت کو یہ امراچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ دو اصول ایسے ہیں جو دنیا میں ہمیشہ سے کارفرما ہیں اور قومی زندگی کبھی ان دو اصول کے بغیر قائم نہیں رہتی۔آدم سے لے کر اس وقت تک دینی کیا اور دنیوی کیا، عقلی کیا اور علمی و عملی کیا، کوئی تحریک ایسی نہیں جو حقیقی طور پر اس وقت تک کامیاب ہوئی ہو جب تک کہ یہ دو باتیں اس کے ساتھ شامل نہ ہوں۔ہر تحریک کے ساتھ ایک پیغام کی ضرورت اول اصول یہ ہے کہ کوئی تحریک دنیا میں حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں کوئی نیا پیغام نہ ہو یعنی وہ کوئی ایسی چیز دنیا کے سامنے پیش نہ کر رہی ہو جو پہلے کسی کو 11