انقلابِ حقیقی — Page 156
۔انقلاب حقیقی کو عملی رنگ دیتے چلے جانا چاہئے اور جماعت ان کو یاد کرتی چلی جائے تا یہ نہ ہو کہ وہ صرف چندہ دے کر یہ سمجھ لے کہ اس کا کام ختم ہو گیا بلکہ اسلام کے تمام احکام پر عمل اس کی غذاء ہو اور سنت و شریعت کا احیاء اس کا شغل ہو۔یہاں تک کہ دنیا تسلیم کرے کہ سوائے اس حصہ کے جو خدا تعالیٰ نے چھین کر انگریزوں کو دے دیا ہے باقی تمام امور میں جماعت احمدیہ نے في الواقع ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنادی ہے اور ہم میں سے ہر شخص جہاں بھی پھر رہا ہو دنیا اسے دیکھ کر یہ نہ سمجھے کہ یہ بیسویں صدی میں انگریزوں کے پیچھے پھرنے اور مغربیت کی تقلید کرنے والا ایک شخص ہے بلکہ یہ سمجھے کہ یہ آج سے تیرہ سو سال پہلے محمد ہے کے زمانہ میں مدینہ کی گلیوں میں پھر رہا ہے۔اے دوستو! میں نے خدا تعالیٰ کا حکم آپ لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال کوئی معمولی سوال نہیں۔آپ لوگوں نے اقرار کیا ہے کہ آپ ہر تکلیف اور ہر مصیبت اُٹھا کر بھی اسلام کے احکام پر عمل کریں گے اور اس تمدن کو قائم کریں گے جس تمدن کو قائم کرنے کا اسلام نے حکم دیا اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے ہر ایک اپنے عہد پر مضبوطی سے قائم رہے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان باتوں پر فور اعمل کرنا شروع کر دے گا جن پر عمل کرنا اس کے اختیار میں ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں، ان کا منہ تمہارا عملی نمونہ دیکھ کر بند ہو جائے اور تم یہ دعویٰ کر سکو کہ اگر ہم ہتک کرتے ہیں تو دیکھو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کن میں زندہ ہیں اور ہر شخص اقرار کرے کہ آپ احمد یوں کے وجود میں زندہ ہیں۔تمدن اسلامی کے قیام میں مشکلات اس کے بعد میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔بہت سے حصے اس تقریر کے ایسے ہیں 156