انقلابِ حقیقی — Page 110
۔انقلاب حقیقی کہ اے رسول ! ہم نے تجھے ساری دنیا کی طرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اور تیرے ذریعہ سے ہم سب دنیا کو ایک نظام پر جمع کرنے والے ہیں۔اب دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان انقلاب ہے اور انقلاب بھی ایسا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی پہلے ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جا تا تھا اور جو تعلیم وہ لاتا اپنی قوم کے لئے لاتا تھا۔چنانچہ ہندوستان میں اگر کرشن حکومت کر رہے تھے تو ایران میں زرتشت حکومت کر رہے تھے اور چین میں کنفیوشس حکومت کر رہے ہیں۔اسی طرح کوئی موسی" کی اُمت تھا تو کوئی عیسی کی مگر خدا نے کہا اب دنیا میں ایک ہی مذہبی حکومت ہوگی اور ظاہری اور باطنی طور پر تمام دنیا ایک ہی جھنڈے کے نیچے لائی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی اس خصوصیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔کہ كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة کہ پہلے ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جایا کرتا تھا مگر میں روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔یہ انقلاب چونکہ ایک نیا انقلاب تھا اور لوگوں نے یہ پہلی دفعہ سنا کہ تمام دنیا روحانی لحاظ سے ایک ہونے والی ہے اس لئے وہ دنگ رہ گئے۔اور جس طرح آپ نے توحید کی تعلیم پیش کی تھی اور کفار حیران ہو گئے تھے ویسا ہی اس دعوی کے وقت بھی ہو ا۔چنانچہ توحید کی تعلیم کے بارہ میں قرآن کریم میں آتا ہے کہ کفارا سے سنکر کہ اُٹھے اَجَعَلَ الْأَلِهَةَ إِلَهَا واحِدًا لے کہ دنیا میں پہلے جو اتنے خدا موجود ہیں کیا ان سب کو اکٹھا کر کے یہ ایک خدا بنانا چاہتا ہے؟ یعنی کوئی ایرانیوں کا خدا ہے جسے وہ اہرمن یا یز دان کہتے ہیں، کوئی عیسائیوں کا خدا ہے جسے وہ گاڈ (GOD) یا خداوند یسوع مسیح کہتے ہیں، کوئی ہندوستان کا خدا ہے جسے وہ پر میشور یا اوم کہتے ہیں، کوئی یہودیوں کا خدا ہے جسے وہ یہوواہ کہتے ہیں۔غرض یہ مختلف بخارى كتاب التيمم وقول الله تعالى فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً (الخ) ص: ۶ 110