انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 109

انقلاب حقیقی کو ایک دوسرے کے لئے مُمد اور متوازی قرار دے کر تجربہ اور مشاہدہ کے میدان میں مذہب کو لاکھڑا کیا ہے حالانکہ اس سے پہلے اسے صرف مافوق الطبعیات قرار دیا جاتا تھا۔چنانچہ قرآن نے کہا کہ دنیا خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا کلام اور یہ ناممکن ہے کہ خدا کے قول اور اس کے فعل میں تضاد ہو۔پس جب بھی تمہیں کوئی مشکل در پیش ہو خدا کے قول اور خدا کے فعل کو مطابق کرو۔جہاں یہ مطابق ہو جائیں تم سمجھ لو کہ وہ بات صحیح ہے اور جہاں ان میں اختلاف رہے تم سمجھ لو کہ اب تک تم پر حقیقت منکشف نہیں ہوئی۔اس نکتہ سے مذہب اور سائنس میں جو لڑائی تھی وہ جاتی رہی کیونکہ سائنس خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا کلام اور یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول و فعل میں تطابق نہ ہوا اور اگر کسی جگہ اختلاف ہو تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے یا اس کے قول کے سمجھنے میں ٹھو کر کھائی ہے یا اس کے فعل پر غور کرنے میں ہمیں غلطی لگی ہے۔ان میں سے جس چیز کا نقص بھی دُور کر دیا جائے گا دونوں میں تطابق پیدا ہو جائے گا۔اس نکتہ عظیمہ کی وجہ سے مذہب فلسفہ کے میدان سے نکل کر مشاہدہ کے میدان میں آ گیا ہے۔اتحاد امم کی بنیاد گیارہویں عظیم الشان فضیلت قرآن کریم کو یہ حاصل ہے کہ اس نے دعوی کیا ہے کہ اس کالایا ہو ا پیغام کسی ایک قوم یا دو قوموں کیلئے نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔وَيَقُوْلُوْنَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ۔قُلْ لَكُمْ مِيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ سبا : ۲۹ تا ۳۱ 109