انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 102

انقلاب حقیقی یعنی (۱) اجرائے نبوت (۲) اجرائے خلافت (۳) افضل تعلیم۔اگر کہا جائے کہ یہی لفظ موسیٰ کی نسبت آئے ہیں۔پھر موسیٰ کی تعلیم سے یہ بڑھ کر کیونکر ہوئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس دلیل سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرِ مِنْهَا أَوْ مِثْلِها جو تعلیم پہلی تعلیم کو منسوخ کر دے وہ اس سے بہتر ہوتی ہے۔چونکہ محمدی تعلیم نے موسوی تعلیم کو منسوخ کر دیا ہے اس لئے اس گلیہ کے مطابق وہ اس سے افضل ہے۔اب سوال ہوسکتا ہے کہ یہ تو ہوئی نعمت۔مگر آیت میں تو اتمام نعمت کا ذکر ہے۔پس خدا تعالیٰ نے نعمت تو دی مگر اتمام نعمت کیونکر ہوئی ؟ تو اس کا جواب اس آیت میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ أُوْلَئِكَ رفيقا کہ وہ لوگ جو خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں نبیوں صدیقوں شہیدوں اور صالحین میں شامل کرے گا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ نزول شرائع کے بعد یہ نقص جو پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگ شریعت کو بُھول جاتے ہیں اور تعلیم باوجود موجود ہونے کے بریکار ہو جاتی ہے اس سے گوکسی تعلیم کی افضلیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ خود بندوں کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن چونکہ اس قسم کی بیماری کا خطرہ ہر وقت ہوسکتا ہے اس لئے ہم بتا دیتے ہیں کہ ایسے خطرہ کے اوقات میں اسلام کو باہر سے کسی کی امداد کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ خود یہی تعلیم اپنے نقص کا علاج پیدا کر لے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا نقص خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی کے ذریعہ سے دُور ہو جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم کے بھول جانے کا علاج موسیٰ کے وقت میں بھی ہو ا۔النساء:۷۰ 102