انقلابِ حقیقی — Page 101
۔انقلاب حقیقی سے بھی کرایا جاتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ تم کو مامور خلافت غير ماً مور خلافت اور افضل شریعت مل گئی اور یہ انعام ہے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا که اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ (۱) آپ کی اُمت میں اجرائے نبوت رہے گا۔(۲) اجرائے خلافت حقہ ہوگا۔(۳) اور آپ کو افضل تعلیم دی گئی ہے۔پھر آپ کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا له لحفظون کہ جو تعلیم تجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں کسی کا دخل نہیں وہ لفظی الہام ہے اور ہم اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔پس جس تعلیم کی حفاظت کی جائے اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آئندہ بھی افضل رہے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ماننسخ من أيّةٍ أو نُنَسِهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أو مثلها اگر کوئی کلام منسوخ ہو تو اس سے بہتر لایا جاتا ہے جس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ جس کلام کو منسوخ نہ کیا جائے اس سے بہتر اور کوئی کلام نہیں۔پس معلوم ہوا کہ قرآن کریم نہ صرف گزشتہ تمام الہامی کتابوں سے افضل ہے بلکہ ہمیشہ افضل رہے گا اور اس کی تنسیخ کا کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔قرآن کریم اور باقی الہامی کتب کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے کابل میں بھی حکومت کے وہی شعبے ہیں جو حکومت برطانیہ کے شعبہ جات ہیں لیکن حکومت کابل کے مقابلہ میں حکومت برطانیہ زیادہ مضبوط اور زیادہ مفید کام کرنے والی ہے۔اسی طرح گو باقی الہامی کتب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں مگر قرآن کریم کی تعلیم ان سب سے زیادہ اعلیٰ ہے اور ہمیشہ اعلیٰ رہے گی۔اسلام کا انقلاب عظیم پس ان دو آیتوں سے اس انقلاب عظیم کا پتہ لگ گیا جو اسلام کے ذریعہ سے ہوا۔101