انفاق فی سبیل اللہ

by Other Authors

Page 42 of 45

انفاق فی سبیل اللہ — Page 42

انفاق في سبيل الله لی۔اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم بھی مالی قربانی کی ان راہوں پر پوری وفا کے ساتھ آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں اور قربانیوں کے جس علم کو ہمارے آباؤ اجداد نے سرنگوں نہیں ہونے دیا ہم بھی اپنی جانیں فدا کر دیں ، اپنے اموال قربان کر دیں، لیکن احمدیت کے نام پر ہرگز ہرگز کوئی آنچ یا دھبہ نہ آنے دیں! ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دنیا عارضی اور چند روزہ ہے۔ہم میں سے ہر ایک نے ایک دن اس عارضی ٹھکانہ کو پیچھے چھوڑ کر آخرت کا سفر اختیار کرنا ہے۔سوچنے اور فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس سفر آخرت کے لیے کیا زاد راہ تیار کیا ہے؟ اگر کسی کے ذہن میں یہ ہو کہ میں اپنی جائیداد ہیں، محلات، اپنی دوستیں اور اپنی جاگیریں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا تو اُس شخص سے زیادہ نادان اور جاہل کون ہوسکتا ہے۔اس دنیا میں آنے والا ہر شخص خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی جاتا ہے۔دنیا کے یہ سب اموال، سب جائیدادیں ، حتی کہ بیوی، بچے ، رشتہ دار اور دوست، سب اسی دنیا میں رہ جاتے ہیں۔مرنے والے کے ساتھ اگر کوئی چیز اُس دنیا میں جاتی ہے اور آخرت میں اُس کو کوئی فائدہ دے سکتی ہے تو وہ اُس کے نیک اعمال ہیں۔ان نیک اعمال میں دیگر نیکیوں کے علاوہ مالی قربانیوں کا ایک بلند مقام ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال کو خوش دلی کے ساتھ راہ خداہ میں خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کی دولت حاصل کر لی جائے تو یہ قربانی ضرور وہ زادِ راہ ہے جو آخرت میں انسان کے ساتھ جاتا ہے اور یہی وہ سچی اور حقیقی دولت ہے جو میدانِ حشر میں بھی اس کی دستگیری کرے گی۔حضرت 42