انفاق فی سبیل اللہ — Page 36
انفاق في سبيل الله انتہائی نازک اور مشکل حالات میں، دلی جذبات کو قربان کرتے ہوئے ، راہ خدا میں قربانی پیش کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔اس کے بے شمار نمونے تاریخ احمدیت میں جابجا جگمگاتے نظر آتے ہیں۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ کا ایک واقعہ یوں بیان کیا کہ وو وزیر آباد کے شیخ خاندان کا ایک نو جوان فوت ہو گیا۔اس کے والد نے کفن ڈمن کے لئے 200 روپے رکھے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود نے لنگر خانہ کے اخراجات کے لئے تحریک فرمائی۔ان کو بھی خط گیا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود کور تم بھجوانے کے بعد لکھا کہ میرا نوجوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے میں نے اس کی تجہیز و تکفین کے واسطے مبلغ 200 روپے تجویز کئے تھے جو ارسال خدمت کرتا ہوں اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کرتا ہوں“ (رسالہ ظہور احمد موعودصفحہ 70-71 مطبوعہ 30 جنوری 1955) کیا یہ ممکن ہے کہ کسی شخص کی زندگی میں یہ مرحلہ آجائے کہ اسے کہا جائے کہ اب تمہیں مزید مالی قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ؟ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ جماعتی ضروریات اور منصوبے تو آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جماعتی تاریخ میں ایک شخص ایسے بھی گزرے ہیں جن کی غیر معمولی نمایاں اور بے لوث قربانیوں کو دیکھتے ہوئے واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ اب انہیں مزید مالی قربانیوں کی ضرورت نہیں۔یہ بزرگ شخصیت حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب 36