انفاق فی سبیل اللہ

by Other Authors

Page 35 of 45

انفاق فی سبیل اللہ — Page 35

انفاق في سبيل الله کرنے والے کارکنان کے لئے اپنی مشک سے پانی ڈالنا تھا۔اس کی ماہانہ آمد ( اس زمانہ میں ) صرف 32 روپے بنتی تھی۔وہ اس آمد میں سے ہر ماہ 20 روپے بڑی باقاعدگی سے بطور چندہ ادا کرتا تھا اور باقی صرف 12 روپے میں اپنے خاندان کا گزارہ کرتا تھا۔لاریب قربانی کا یہ معیار بہت ہی قابل رشک ہے اور بہتوں کے لئے درس نصیحت ہے۔قادیان کے ایک درویش کا عاشقانہ انداز قربانی ایسا ہے کہ روح پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔شمس الدین صاحب درویش جسمانی طور پر معذور تھے سارا وقت ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں پڑے رہتے۔نظام وصیت 1905 میں شروع ہوا۔یہ 1919 میں اس میں شامل ہوئے لیکن اس اپاہج اور معذور لیکن دل کے غنی اور فدا کار کا نمونہ دیکھئے کہ آپ نے 1901 سے چندہ وصیت دینا شروع کر دیا۔اور نہ صرف ساری زندگی ادا کیا بلکہ آئندہ سالوں کا چندہ بھی دیتے رہے اور 1990 تک کا چندہ وصیت ادا کر دیا جبکہ ان کی وفات 1950 میں ہوگئی۔گویا وہ تصویری زبان میں کہہ رہے تھے کہ کاش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت اولین احمدیوں میں شامل ہوتا اور کاش میں 1990 تک زندگی پا کر اسلام کی خدمت کرتا چلا جاتا۔قربانی کا یہ بے مثال جذبہ ایک ایسے شخص کا ہے جو معذور تھا۔چل پھر بھی نہ سکتا تھا، پہلو تک نہیں بدل سکتا تھا۔زبان میں بھی لکنت تھی لیکن اس فدائی کا دل کتنا متحرک اور جذبہ قربانی سے پُر تھا! ( بحوالہ وہ پھول جو مرجھا گئے از چوہدری فیض احمد گجراتی حصہ اول صفحہ 60 تا 62) 35