انفاق فی سبیل اللہ — Page 16
انفاق في سبيل الله ہادی اور راہنما بن گئے۔مالی قربانیوں کے موضوع پر بھی آپ نے اپنی امت کی بے نظیر راہنمائی فرمائی۔چندار شادات بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔ایک ایک ارشاد توجہ سے پڑھنے اور یا در رکھنے کے لائق ہے۔ایک حدیث قدسی میں مذکور ہے کہ ” اے ابن آدم ! تو دل کھول کر راہ خدا میں خرچ کر اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر خرچ کرے گا۔(مسلم کتاب الزكاة حديث نمبر 2308 باب الحث على النفقة وتبشير المنفق بالخلف ) فرمایا ” قابلِ رشک ہے وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فر مایا اور پھر اس مال کو اس کے برمحل خرچ کرنے کی بھی غیر معمولی توفیق اور ہمت بخشی (بخاری کتاب الزكاة باب انفاق المال في حقه) ہیں فرمایا " دولت مند وہ نہیں جس کے پاس زیادہ مال ہو بلکہ حقیقی دولت مند تو وہ ہے جو دل کا غنی ہو یعنی راہ خدا میں دل کھول کر خرچ کرتا ہو (ترمذی ابواب الزهد باب ماجاء ان الغنى غنى النفس) فرمایا ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کچھ خرچ کرتا ہے اسے اس کے بدلہ میں سات سو گنا زیادہ ثواب ملتا ہے“ (ترمذی باب فضل النفقة في سبيل الله) فرمایا ” نیکی کے تمام دروازوں میں سے بہترین دروازہ صدقہ و خیرات کرنا ہے“ (المع الكبير للطبراني رقم الحديث 12663 كنز العمال رقم الحديث 16015) فرمایا ” ہر روز صبح سویرے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے 16