امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 11
16 15 علم ہے۔اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جس سر کے اندرونی حصے میں اتنا بڑا اخزانہ ہے اس کے اس بچے کے ان پر حکمت الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت امام صاحب کے مقام اور باہر کے حصے کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیشہ علمی شخصیت سے نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی متاثر تھے اور جانتے تھے کہ یہ ایسا شخص ہے جس اپنا سرڈھانپ کر رکھتے تھے۔دوسری بات یہ کہ آپ کبھی پاؤں پھیلا کر نہیں سوئے۔آپ کے ساتھ ایک جہان کی ہدایت وابستہ ہے۔فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ اور ہر سمت موجود ہے۔اس لیے اس کے ادب اور احترام کے طور پر میں پاؤں نہیں پھیلاتا۔بچو! یہ ساری باتیں اصل میں محبت کی ہوتی ہیں۔ہم جس سے محبت کرتے ہیں اس کا ادب اور احترام بھی کرتے ہیں۔ہے نا! اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی عبادت میں آپ اتنے زیادہ مگن ہو گئے تھے کہ دنیا میں آپ کا دل بالکل نہیں لگتا تھا۔آپ نے سوچا کہ میں یہ دنیا بالکل ہی چھوڑ دیتا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے سے روک دیا۔وہ اس طرح کہ آپ نے خواب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے فرماتے ہیں کہ : " تجھے اس لیے پیدا کیا گیا کہ میری سنت کو زندہ کرے۔“ پیارے بچو! حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تقویٰ کا انتہائی اعلیٰ مقام رکھتے تھے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ ہوتے کہ کہیں اس سے طبیعت میں لا پرواہی پیدا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بابت لکھا ہے کہ آپ ایک مرتبہ بہت تھوڑی سی نجاست جوان کے کپڑے پر تھی دھور ہے تھے۔کسی نے کہا کہ آپ نے اس قدر کے لیے تو فتویٰ نہیں دیا۔اس پر آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ آں فتوی است وایس تقوی۔( ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 442) مطلب یہ ہے کہ جہاں تک فتویٰ کی بات ہے تو یہ درست ہے کہ اس قدر معمولی گندگی یہ خواب دیکھنے کے بعد آپ نے دنیا چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اسلام اور پر فتویٰ تو نہیں لگتا مگر اگر تقویٰ کو دیکھا جائے تو میرا ضمیر یہ گوارہ نہیں کرتا کہ اس قدر معمولی سی انسانوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔حضرت امام ابوحنیفہ کا وجود نافع الناس تھا۔آپ ایک عالی مقام رکھتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے ایک بچے کو جب کیچڑ میں کھیلتا ہوا دیکھا تو اسے منع کیا کہ کہیں پھسل کر گر جاؤ گے۔اس پر بچے نے بڑی حاضر جوابی سے کہا:۔فَإِنَّ فِي سُقُوطِ الْعَالِمِ سُقُوطُ الْعَالَمِ - گندگی بھی کپڑے پر لگی ہو۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی ڈھیر ساری خوبیاں عطا کی تھیں ان میں ایک خوبی ذہانت“ بھی تھی۔امام اعظم بہت ہی ذہین تھے۔آؤ ! تھوڑی دیر کے لیے بغداد چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ امام اعظم نے اپنی ذہانت سے کس طرح تین مشکل سوالوں کے جوابات دیے۔ایک رومی بغداد آیا۔اس نے وہاں کے حاکم سے کہا کہ میرے تین سوال ہیں۔مطلب یہ تھا کہ اگر میں گرا تو اکیلا ہی گروں گا مگر اگر آپ گرے تو ایک جہان گر اگر آپ کی سلطنت میں کوئی ایسا آدمی ہو جو میرے ان سوالوں کے جواب دے سکے تو اسے جائے گا کیونکہ عالم کے گرنے سے ایک عالم کی موت بر پا ہو جاتی ہے۔بلائیں۔حاکم نے اعلان کر دیا۔سارے علماء جمع ہوئے۔امام صاحب بھی وہاں موجود تھے۔رومی ایک اونچی سی جگہ پر جسے منبر کہتے ہیں چڑھ گیا اور اس نے تین سوال کیے۔سوال (الدرالمختار محمد بن علی الحصکفی طبع اولی 2002ء، بیروت)