امام مہدی کا ظہور — Page 29
۲۹ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السّلام کی طرف وحی کی کہ اسے عیسی ! ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکان کر جا تا کہ تو پہچان نہ لیا جائے اور دیکھو نہ دیا جائے؟ غرض قرآن حدیث سے بھی آپ کی ہجرت ایک دوسری زمین کی طرف ثابت ہے نہ آسمان کی طرف اور دَفَعَهُ الله الله سے مُراد آرام دہ اونچی زمین کی طرف ہی ہجرت کر کے باد جاہت نہ زندگی گزار کر یا عورت وفات کے ذریعہ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے۔پس جو دلائل و شواہد حضرت بانی اسلسلہ احمدیہ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی ہجرت کے متعلق دیئے ہیں ان سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسی نے صلیب پر وفات نہیں پائی بلکہ صلیبی موت سے بچائے گئے اور دنیا میں رہ کر آپ نے وجاہت والی زندگی بسر کی۔ان دلائل و براہین اور شواہد سے صلیب پاش پاش ہو جاتی ہے اور صلیبی عقیدہ کے ابطال کی ضرورت اسی زمانہ میں تھی۔جبکہ عیسائیت کو دنیا میں عروج حاصل ہو گیا ہوتا اور اس کیلئے تیرھویں صدی کا آخر اور چودھویں صدی کا شروع ہی موزوں وقت تھا۔پس جو کام میر کو مسیح کے ذمہ تھا وہ بنیادی طور پر پورا ہو چکا ہے۔اب تو صرف دنیا میں ان خیالات مرجو کی پر زو را شاعت کی ضرورت ہے اور یہ کام حضرت بانی جماعت احمدیہ کی جماعت کے ذمہ ہے کہ وہ اس راہ میں ہر قسم کی قربانیاں کرنے کیلئے تیار ہے تا توحید الہی کا تحقیر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت ساری دنیا میں مانی جائے اور وہ وقت آجائے جبکہ حسب آیت عَلَى إِن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوداً ہر شخص کی زبان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سے رطب اللسان ہو کہ آپ پر درود بھیج رہی ہو۔اب کسی اور مسیح اور مہدتی کے انتظار کی ضرورت نہیں۔کیونکہ یہ کام حضرت بانی جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے انجام پا چکا ہے اور اب احمدیہ تحریک جو اسلام کی ایک