علم و عمل — Page 15
27 26 تھے۔ان کی بیوی پہلے بچے کی ولادت کے وقت بہت تکلیف میں تھی۔اس کر بناک ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حالت کفر سے ایک بار نکل آنے کے بعد دوبارہ کفر حالت میں رات کے بارہ بجے وہ حضرت خلیفہ ایسیح الاوّل کے دروازہ پر حاضر کر طرف لوٹ جانے کو اتنا ہی نا پسند کرے جتنا آگ میں دو بار ڈالے جانے کو۔یہ ہوئے۔دروازہ پر دستک کی آواز سن کر پوچھا کون ہے؟ اجازت ملنے پر اندر جا کر ہے وہ استقامت جو ایک سچے مومن کی نشانی ہے۔ایک مومن کو خواہ وہ پیدائشی مومن زچگی کی تکلیف کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی حضور فوراً اُٹھے ، اندر جا کر ایک کھجور ہو یا بعد میں اسلام لایا ہو، زندگی کے دوران ایسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن میں لے کر آئے اُس پر دعا کر کے انہیں دی اور فرمایا۔یہ اپنی بیوی کو کھلا دیں اور جب اُس کے ایمان کا امتحان لیا جاتا ہے۔لیکن حالات خواہ کچھ بھی ہوں ،مصائب کتنے بچہ ہو جائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔چوہدری حاکم دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ بھی شدید ہوں ہر حالت میں پوری استقامت کے ساتھ ایمان پر قائم رہنا ایک سچے میں واپس آیا کھجور بیوی کو کھلا دی اور تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچی کی مومن کی شان ہے۔اسلام کی سچائی کا یقین اگر علم ہے تو اس ایمان پر قائم رہنا اور ولادت ہوئی۔رات بہت دیر ہو چکی تھی میں نے خیال کیا کہ اتنی رات گئے دوبارہ استقامت سے قائم رہنا عمل صالح ہے۔تاریخ اسلام کا ہر دور ایسی روشن مثالوں حضور کو اس اطلاع کے لئے جگانا مناسب نہیں۔نماز فجر میں حاضر ہو کر میں نے سے منورنظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے ہر مصیبت برداشت کی ، ہر امتحان میں سرخرو عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھجور کھلانے کے جلد بعد بچی پیدا ہوگئی تھی۔اس پر ہوئے حتی کہ بعض نے اس راہ میں اپنی جانیں بھی قربان کر دیں لیکن ایک بار ایمان حضرت خلیفہ مسیح الاوّل نے جو فر مایا وہ سننے اور یاد رکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔دل کا مزہ چکھ لینے کے بعد پھر اس شیر میں جام کو اپنے منہ سے کبھی جدا نہیں کیا۔اپنے عمل سے انہوں نے صبر و استقامت کی ایسی تاریخ رقم کی کہ ہمیشہ ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی رہے گی۔واقعات کی تعداد اتنی ہے کہ انتخاب ایک مسئلہ ہے اور " گداز الفاظ طبیعت میں رفت پیدا کر دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔میاں حاکم دین! تم نے اپنی بیوی کو کھجور کھلا دی اور تمہاری بچی پیدا ہوگئی۔تم اور تمہاری بیوی آرام سے سو گئے۔مجھے بھی اطلاع دے دیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا۔میں تو ساری رات جاگتا رہا اور تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا رہا۔“۔واقعات اس قدر درد ناک ہیں کہ بیان کی طاقت نہیں۔حضرت بلال کا ظالم آقا آپ کو چلچلاتی دھوپ میں گرم ریت پر لٹا دیتا اور سینہ پر بھاری گرم پتھر رکھ دیتا کہ آپ حرکت بھی نہ کر سکیں لیکن آفرین ہے سیدنا چوہدری حاکم دین صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا اور بے اختیار رو پڑے اور کہنے لگے۔66 ” کہاں چپڑاسی حاکم دین اور کہاں نور الدین اعظم۔“ بلال کی استقامت پر کہ اس حالت میں بھی احد احد کے الفاظ کہتے ہوئے توحید الہی کا اقرار کرتے چلے جاتے۔حضرت خباب کو دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹایا جاتا۔( مبشرین احمد صفحہ 38 نیز رفقائے احمد جلد 8 صفحہ 71-72) ظالم آقا ان کے سینے پر سوار ہو جاتا اور یہ عذاب اس وقت جا کر ختم ہوتا جب جسم کی ہمارے محبوب آقا سرور کا ئنات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے رطوبت نکل نکل کر آگ کو سرد کر دیتی۔حضرت عمار بن یاسر استقامت کا ایک بلند فرمایا ہے کہ وہ تین باتیں جن سے انسان کو ایمان کی حلاوت اور مٹھاس محسوس ہوتی مینار تھے۔ان کو اور ان کے والدین کو ظالموں نے ایسے ایسے زہرہ گداز مظالم کا نشانہ