اك حرف ناصحانہ — Page 20
۲۲ اگر جھگڑا نپٹانے کی خاطر تسلیم کرلیا جائے کہ ہر فرقہ کے علماء کو قرآن کریم بی حتی دیتا ہے اور کوئی تفریق نہیں کرتا تو پھر یہ بھی ماننا لازم ہو گا کہ اس صورت میں کسی مسلمان فرقہ کو بھی یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اسلامی اصطلاحات استعمال کرے بغیرمسلم کو تو ویسے ہی حتی نہیں مسلمان کہلانے والے کو اس لئے نہیں کہ مسلمان کہلانے کے باوجود دیگر فرقوں کے علماء اسے پکا کافر بلکہ کافروں یا مشرکوں سے بد تر قرار دے چکے ہیں۔بر حال خواہ غیر مسلم کو اسلامی اصطلاح کے استعمال سے روکا جائے یا سلم کو یہ حقیقت تو اپنی جگہ رہے گی کہ مذہبی اصطلاح تو کسی مذہب کی کتاب اور واجب الاطاعت رسول ہی بنا سکتے ہیں ہیں وہ سب لوگ جو قرآن و سنت کو واجب الاطاعت یقین کرتے ہیں و کون ایجاد کرے گا یہ اصطلاحات سے روکا جائے گا تو ان کی ہیں اور اُن خود ساختہ اصطلاحوں کو مانے پر انہیں کسی فرمان الہی کے مطابق مجبور کیا جائے گا۔خواہ آپ کسی کو مسلم کہیں یا غیر مسلم کا فر یا غیر کا فر قرآن کریم پر ایمان لانے سے تو آپ کسی قیمت پر اسے روک نہیں سکتے۔خود قرآن کریم یہ حتی اسے دے رہا ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف : ٣٠) ترجمہ :۔پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔لا إكراه في الدِّينِ (البقرة : ۲۵۷) ترجمہ : دین میں کوئی جبر نہیں۔فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عليها (یونس : ۱۰۹) ترجمہ : جو کوئی ہدایت اختیار کرے تو خود اپنے لئے ہی ہدایت کا سامان کرتا