اك حرف ناصحانہ

by Other Authors

Page 15 of 27

اك حرف ناصحانہ — Page 15

16 ہے جو مسلمانوں کی طرف سے کی جاتی ہے اور غیر اس دل آزاری کا نشانہ بنتے ہیں لیکن اس قسم کی دل آزاری کو تسلیم کرنے کے باوجود مسلمانوں کو نہ صرف بے قصور قرار دیا گیا ہے بلکہ اس ولآزاری کا اجر عطا کرنے کا وعدہ دیا گیا ہے۔چنانچہ سورہ توبہ کی آیت ۲۱ اسے ثابت ہے کہ مسلمانوں کے چلنے پھرنے سے بھی کفار کی دل آزاری ہوتی تھی اور وہ غضب ناک ہو جاتے تھے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو چلنے پھرنے سے روکا نہیں گیا بلکہ اس بناء پر اجر کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس مثال پر غور سے صاف سمجھ آجاتا ہے کہ اگر کوئی اپنے بنیادی حقوق پر عمل کر رہا ہو اور اس سے کسی کی دل آزاری ہو تو ہر گز اس " دلآزاری کی وجہ سے کسی کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔قرآن کریم کے بعد اسود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعل ہے کہ کبھی ایک موقع پر بھی اس بناء پر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم ناراض نہیں ہوئے کہ کوئی غیرمسلم اسلامی تعلیم پر کیوں عمل پیراہے میں نہیں بلکہ گلی گلی مخالفانہ دلآزاری پر بھی آپ نے جو عظیم صبر اور کفو کانمونہ دکھایا وہ عدیم المثال ہے۔چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول جیسے بد زبان رئیس المنافقین نے جب ایک غزوہ کے دوران آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید دل آزاری کی تو انہوں نے خود کا انتقام لینا تو درکنار اپنے اُن معشاق کو بھی جو اس بد زبانی پر سخت مشتعل ہو چکے تھے تعزیری کارروائی سے سختی سے روک دیا یہاں تک کہ اس کے اپنے بیٹے نے بھی جب اجازت چاہی کہ وہ اس گستاخی پر اپنے باپ کو سزا دے تو آپ نے یہ اجازت نہ دی بخفو اور درگذر اور الطاف کریمانہ کی حد یہ ہے کہ جب بھی گستاخ فوت ہوا تو صحابہ نے کے مشورہ کے برخلاف خود اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔یہ ہے سنت رسول کی روشنی میں دلآزاری کا تصور اور اس پر جوابی کارروائی کی تعلیم۔ہے کوئی دنیا میں جو اس شان کا اسوہ اور اس حوصلہ