اك حرف ناصحانہ — Page 14
14 اِس آیت کریمہ پر غور کرنے سے جہاں والآزاری کا مفہوم سمجھ آجاتا ہے وہاں یہ نکتہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی واقعی دل آزاری کا مرتکب ہو تو اسلام اس کی کیا سزا تجویز کرتا ہے۔یہ قابلِ غور امر ہے کہ اتنی شدید دل آزاری کی سوائے اس کے کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی کہ اللہ تعالیٰ دلآزاری کرنے والوں کے اعمال کو ضائع کر دے گا۔گویا جہاں تک واضح مسلمہ دل آزاری کا تعلق ہے وہاں بھی تعزیر کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور مسلمانوں کو مقابل پر دل آزاری کی تلقین بھی نہیں کی۔ہاں بعض دیگر آیات پر غور کرنے سے اس حد تک جوابی کارروائی کا جواز ضرور ملتا ہے کہ جزر ا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ( الشورى : (۲۱) که بدى كاولیا ہی بدلہ لیا جا سکتا ہے جیسی ہدی ہو لیکن یہ حق صرف مسلمانوں کو ہی نہیں دیتا کفار اور مشرکین کو بھی برابر دیتا ہے جیسا کہ فرمایا :- وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ (الانعام : ١٠٩) یعنی تم کسی کے معبودان باطلہ کوبھی گالی نہ دو ورنہ وہ بھی شمنی میں آکرلا علمی کی وجہ سے خدا کو گالیاں دینے لگیں گے۔اس اصولی تعلیم کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ انسان کاری حتی تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی کسی کو گالی دے اور سخت کلامی کرے تو جواباً وہی سلوک اس سے کرو لیکن اس سے زیادہ نہیں لیکن اگر کوئی تمہارے نزدیک غیر ہو لیکن تمہاری اچھی باتوں کو پسند کرے اور ان کی نقل کرے تو اس دل آزاری کا سوائے اس کے اور کوئی بدلہ سوچانہیں جاسکتا کہ تم اسکی اچھی باتوں کی نقل کر کے اپنا بدلہ لے لو۔مشر آن کریم پر غور کرتے ہوئے ایک ایسی ولآزاری کا بھی پتہ چلتا