اِعجاز المسیح — Page 85
اعجاز المسيح ۸۵ اردو تر جمه الرحمان محبوب كذالك هو محبوب ہے اسی طرح وہ جلال کا مظہر بھی ہے۔اور مظهر الجلال۔وكمثله اسم بعينم اس کمال میں اسم محمد بھی شامل ہے۔محمد فى هذا الكمال۔ثم لما پھر جب و اب خدا کی طرف سے صحابہ کرام ورث الأصحاب اسم محمد من الله الوهّاب۔وأظهروا جلال الله اسم محمد کے وارث ہوئے اور انہوں نے اللہ کے جلال کا اظہار کیا اور انہوں نے ظالموں کو وقتلوا الظالمين كالأنعام والدواب۔كذالك ورث چوپاؤں اور جانوروں کی طرح قتل کیا۔اسی طرح المسيح الموعود اسم أحمد مسیح موعود اسم احمد کا وارث ہوا جو رحیمیت الذي هو مظهر الرحیمية اور جمال کا مظہر ہے۔اور اللہ نے اُس کے لئے والجمال۔واختار له الله هذا اور اُس کے پیروکاروں کے لئے اور اُن سب کے الاسم ولمن تبعه وصار له لئے جو اس کی آل کی طرح ہیں یہ نام منتخب جماعته مظهر من الله لصفة كالآل۔فالمسيح الموعود مع فرمایا۔پس مسیح موعود مع اپنی جماعت کے اللہ کی الرحيمية والأحمدية۔ليتم قوله صفت رحیمیت اور احمدیت کا مظہر ہے۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُم ، ولا راد تاکہ اللہ کا فرمان وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ پورا ہو۔للإرادات الربانية۔وليتم حقيقة اور کوئی نہیں جو بانی ارادوں کو روک سکے تا مظاہر المظاهر النبوية۔وهذا هو وجه نبويه كى حقيقت پوری ہو۔اور یہی بسم اللہ کے (۱۲) تخصيص صفة الرحمانية ساتھ صفت رحمانیت اور رحیمیت کی وجهِ والرحيمية بالبسملة ليدل على تخصیص ہے۔تا کہ اسم مـحـمـد اور احمد اور 66 اســـمــی مــحــمــد وأحــمــد ومظاهـر هـمـا الآتية۔أعـنـى اُن کے آئندہ آنے والے مظاہر پر دلالت کرے۔الصحابة ومسيح الله الذي كان یعنی صحابہؓ اور اللہ کا وہ مسیح جو رحیم آتیا فی حلــل الــرحيـمية اور احمدیت کے لبادے میں آنے والا ہے۔والأحمدية۔ثم نكرر خلاصة | اب ہم بسم اللہ کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ بیان لے اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اس کو بھیجے گا۔( الجمعة : ۴)