اِعجاز المسیح — Page 84
اعجاز المسيح ۸۴ اردو تر جمه الرحمان۔فخلاصة الكلام ان کئے جاتے ہیں۔پس خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ الصحابة كانوا مظاهر للحقيقة حقيقت مـحـمـدیه جلالیہ کے مظہر تھے۔یہی المحمدية الجلالية۔ولذالك وجہ ہے کہ انہوں نے اُس قوم کو جو درندوں اور جنگلی قتلوا قومًا كانوا كالسباع ونعم جانوروں کی طرح تھی قتل کیا تا کہ اس طرح وہ البادية ليُخلّصوا قوما آخرين الرحمانية۔ولا منافاة بين من سجن الضلالة والغواية دوسرے لوگوں کو ضلالت اور گمراہی کے زندان سے ويجروهم إلى الصلاح والهداية۔رہائی دیں اور انہیں صلاح و ہدایت کی طرف لے وقد عرفت أن الحقيقة آئیں تو خوب جان چکا ہے کہ حقیقت محمدیہ المحمدية هو مظهر الحقيقة حقیقت رحمانیت کی مظہر ہے۔اور اس صفت احسان اور جلال میں کوئی مغایرت نہیں بلکہ الجلال وهذه الصفة الإحسانية۔بل الرحمانية مظهر تام للجلال رحمانیت ربانی جلال اور سطوت کی مظہر تام ہے والسطوة الربانية۔وهل حقيقة اور رحمانیت کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ الرحمانية إلا قتل الذي هو أدنى ادنى كو اعلیٰ کے لئے قربان کیا جائے۔اور انسان اور للذي هو أعلى۔وكذالك اس کے علاوہ دوسری مخلوق کی پیدائش سے رحمان کی جرت عادة الرحمن مذ خلق یہی سنت جاری ہے۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ اونٹوں کی الإنسان وما وراءه من الورى۔ألا ترى كيف تقتل دود جُرح جان بچانے کے لئے اونٹوں کے زخموں کے کیڑوں الإبل لحفظ نفوس الجمال کو کیسے ہلاک کیا جاتا ہے اور خود اونٹ اس لئے وتقتل الجمال لينتفع الناس من ذبح کر دیئے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان کے گوشت ااا لحومها وجلودها۔ويتخذوا پوست سے فائدہ اٹھا ئیں۔اور اُن کی اُون سے - من أوبـــارهــا ثياب الزينة دیدہ زیب اور خوبصورت لباس بنا ئیں۔اور یہ سب والجمال۔وهذه كلها من کچھ انسانی اور حیوانی سلسلے کی حفاظت کے لئے الرحمانية لحفظ سلسلة الإنسانية والحيوانية۔فكما أن رحمانیت کا کرشمہ ہے۔پھر جس طرح رحمن