اِعجاز المسیح — Page 62
اعجاز المسيح ۶۲ اردو تر جمه ولذالك الزم نفسه نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے کہ وہ خدائے رحمن أن تصغي إلى كل أمر ينزل من کے حکم پر جو وہ لوگوں کو بہشت بریں کی طرف الرحمن لدعوة الناس إلى بلانے کے لئے نازل فرماتا ہے کان لگائے رکھے الجنان۔ويبذل جهده للإضلال اور گمراہی اور فتنہ سازی کے لئے اپنی پوری کوشش والافتنان۔فقدر الله له الخيبة صرف کرے۔سوا اللہ نے انبیاء کی بعثت کے ذریعہ والقوارع ببعث الأنبياء۔وما سے اُس کے لئے نامرادی اور صدمات مقدرکر قتله بل أنظره إلى يوم تبعث فيه ديئے اور اُسے ہلاک نہ کیا بلکہ اُسے اُس دن تک الموتى بإذن الله ذى العزة مہلت دی جس میں اللہ بزرگ و برتر کے حکم سے والعلاء۔وبشر بقتله في قوله مردے اٹھائے جائیں گے۔اور الشَّيْطَنِ الرَّحِيم الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔فتلك هى کے قول میں اس کی ہلاکت کی خوشخبری دی گئی ہے الكلمة التي تُقرأ قبل قوله : يروه كلمه تعوذ ہے جو اللہ کے فرمان بِسمِ الله بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ سے پہلے پڑھا جاتا وهذا الرجيم هو الذي ورد فيه ہے اور یہ کہ رجیم وہی ہے جس کے بارے میں الوعيد۔أعنى الدجّال الذي يقتله وعید وارد ہوئی ہے۔اس سے میری مراد وہ دجال المسيح المبيد۔والرجم القتل ہے جسے ہلاک کرنے والا مسیح قتل کرے گا۔اور كما صرح به في كتب اللسان جیسا کہ عربی زبان کی کتابوں میں صراحت کی گئی العربية۔فالرجيم هو الداجل ہے رجم کے معنی قتل کے ہیں۔پس رَحِیم وہ الذي يُغال في زمان من الأزمنة وقال ہے جسے کسی آئندہ زمانے میں قتل کیا جائے الآتية۔وعد من الله الذي يخول گا۔یہ اُس خدا کا وعدہ ہے جو اپنے بندوں کی على أهله ولا تبديل للكلم نگہداشت کرتا ہے اور کلام الہی میں کوئی رد و بدل الإلهية۔فهذه بشارة للمسلمين ممکن نہیں۔پس یہ رحیم خدا کی طرف سے مسلمانوں من الله الرّحيم۔وإيماء إلى أنه كے لئے خوشخبری ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ وہ