اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 163

اِعجاز المسیح — Page 32

اعجاز المسيح ۳۲ اردو تر جمه۔لهذه اللأواء۔وما قلتُ هذا | کام کے لئے ہمت اور دعا کی درخواست کرے۔القول إلا ليعلم الناس أنهم یہ بات میں نے صرف اس لئے کہی تھی کہ تا لوگ یہ كلهم جاهلون ولا يستطيع جان لیں کہ یہ سب جاہل ہیں اور ان میں سے کوئی أحد منهم أن يكتب كمثل هذا بھی اس جیسی تفسیر لکھنے کی طاقت و مقدرت نہیں ولايقدرون وليس من رکھتا۔اور یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ شخص جسے الصواب أن يُقال أن هذا الرجل دعوت مقابلہ دی گئی ہے وہ گذشتہ زمانہ میں تو عالم المدعو كان عالمًا في سابق تھا لیکن اس وقت برف کے پگھل کر معدوم ہو جانے الزمان۔وأما في هذا الوقت فقد کی طرح اُس کا علم معدوم ہو گیا ہے۔اور یہ کہ اس انعدم علمه كثلج ينعدم بالذوبان و نسج علیه عناكب پرنسیان کی مکڑیوں نے جالے بن دیئے ہیں کیونکہ النسيان۔فإن العلم الذى ادعاه۔وہ علم جس کا وہ مدعی ہے اور جسے اس نے از بر کیا وحفظه ووعاه۔وقرأه وتلاه محفوظ رکھا اور مسلسل پڑھتا رہا ضروری تھا کہ وہ علم لا بد أن يكون له هذا العلم اس کے لئے شیر مادر کی طرح ہوتا جس نے اس کی (۴۲) گذر رباه أو كسراج أضاء پرورش کی یا ایسے چراغ کی طرح ہوتا جس نے اس بيته وجلاه۔فكيف يزول هذا کے گھر کو خوب روشن کیا اور اسے جلا بخشی۔پھر العلم بهذه السرعة۔ويخلو کیسے ممکن ہے کہ وہ علم اتنی جلدی زائل ہو جائے اور کظرف منثلم وعاء الحافظة۔ذہن چھید شدہ برتن کی طرح خالی ہو جائے۔اور کس وتـــنـــزل آفـة مـنـسـيـة عــلــى طرح ممکن ہے کہ حواس اور دل پر نسیان کی آفت المدارك والـجـنـان۔حتى لا آپڑے کہ اتنی تھوڑی مدت میں لوحِ قلب پر ایک يبقى حرف على لوحها إلى هذا حرف بھی باقی نہ رہے اور وہ علوم جو جان جوکھوں القدر القليل من الزمان وكيف میں ڈال کر طویل مشقت کے بعد حاصل کئے گئے تهب صراصر الذهول على علوم كسبت بشق النفس والقحول ہوں اُن پر ڈھول کی بادِ صر صر کس طرح چل سکتی ولو فرضنا أنّ آفة النسیان ہے۔اور اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ نسیان کی