اِعجاز المسیح — Page 153
(الف) خدا کے فضل سے بڑا معجزہ ظاہر ہوا ہزار ہزار شکر اُس قادر یکتا کا ہے جس نے اس عظیم الشان میدان میں مجھ کو فتح بخشی اور باوجود اس کے کہ ان ستر دنوں میں کئی قسم کے موانع پیش آئے چند دفع میں سخت مریض ہوا بعض عزیز بیمار رہے مگر پھر بھی یہ تفسیر اپنے کمال کو پہنچ گئی۔جو شخص اس بات کو سوچے گا کہ یہ وہ تفسیر ہے جو ہزاروں مخالفوں کو اسی امر کے لئے دعوت کر کے بالمقابل لکھی گئی ہے وہ ضرور اس کو ایک بڑا معجزہ یقین کرے گا بھلا میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ معجزہ نہیں تو پھر کس نے ایسے معرکہ کے وقت کہ جب مخالف علماء کو غیرت دو الفاظ کے ساتھ بلا یا گیا تھا تفسیر لکھنے سے اُن کو روک دیا اور کس نے ایسے شخص یعنی اس عاجز کو جو مخالف علما کے خیال میں ایک جاہل ہے جو اُن کے خیال میں ایک صیغہ عربی کا بھی صحیح طور پر نہیں جانتا ایسی لاجواب اور فصیح بلیغ تفسیر لکھنے پر با وجود امراض اور تکالیف بدنی کے قادر کر دیا کہ اگر مخالف علماء کوشش کرتے کرتے کسی دماغی صدمہ کا بھی نشانہ ہو جاتے تب بھی اُس کی مانند تفسیر نہ لکھ سکتے اور اگر ہمارے مخالف علماء کے بس میں ہوتا یا خدا ان کی مدد کرتا تو کم سے کم اس وقت ہزار تفسیر ان کی طرف سے بالمقابل شائع ہونی چاہیئے تھی لیکن اب ان کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ ہم نے اس بالمقابل تفسیر نویسی کو مدار فیصلہ ٹھہرا کر مخالف علماء کو دعوت کی تھی اور نستر دن کی میعاد تھی جو کچھ کم نہ تھی اور میں اکیلا اور وہ ہزار ہا عربی دان اور عالم فاضل کہلانے والے تھے تب بھی وہ تفسیر لکھنے سے نامرادر ہے اگر وہ اب )