اِعجاز المسیح — Page 148
۱۴۸ اردو تر جمه الله من سطوتها وسلطانها سطوت اور شوکت سے نجات پائی اور اس کے دیو وعصمت من صولة غولها اور شیطان کے حملہ سے بچایا گیا اور اس قوم سے وشيطانها۔وخرجت من قوم باہر نکل گیا جو اصل کو چھوڑتی اور فرع کی تلاش کرتی يتركون الأصل ويطلبون الفرع ہے۔وہ اس دنیا کی خاطر تقوی شعاری کو ضائع (۱۹۶) ويضيعون الورع لهذه الدنيا کرتے اور خام کھیتی کو بیچ دیتے ہیں۔وہ چاہتے ويجبئون الزرع ويريدون أن ہیں کہ اُن کی باتیں لوگوں کے دلوں میں جاگزیں يحتكأ قولهم في قلوب الناس۔ہو جائیں باوجود یکہ وہ نجاستوں سے پاک نہیں مع أنهم ما خلصوا من الأدناس۔ہوتے۔ایک بد بودار مشکیزے سے صاف پانی کی وكيف يترقب الماء المعين من اور فاسد طبیعت سے دین اور اخلاص کی توقع کیسے قربة قُضِئت۔والخلوص والدين کی جاسکتی ہے۔ایک قیدی کو قید سے آزاد شخص کی طرح کیسے شمار کیا جا سکتا ہے۔ایک بدذات کو شرفاء الأسير كمُطلَق من الإسار۔میں کیونکر شامل کیا جاسکتا ہے اور لوگ اس کے رگرد من قريحة فسدت۔وكيف يُعَدُّ وكيف يدخل المُقرف في الأحرار۔وكيف يتـداكـأ الناس کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔وہ خود بھی خبیث ہے اور جو اُس کے منہ سے نکلتا ہے وہ بھی خبیث ہے۔عليه۔وهو خبيث وخبيث ما میرے قلم کو نفسانی خواہشات کی آلودگیوں سے يخرج من شفتيه۔وإن قلمي برء مبرا کر دیا گیا ہے اور مولیٰ کی رضا جوئی کے لئے من أدناس الهوى۔وبُرى لإرضاء تراشا گیا ہے۔اور میرے قلم میں باقیات المولى۔وإن ليراعي أثر من الباقيات الصالحات۔ولا كأثر الصالحات کا وہ نقش ہے جو عمدہ گھوڑوں کے سنابك المسوّمات۔ونحن سموں کے نقش میں بھی نہیں۔ہم کمال کے شاہسوار كُماة لا نزل عن صهوات المطايا۔ہمیں گھوڑوں کی پشتوں سے گرنے والے نہیں۔ہم وإنا مع ربنا إلى حلول المنايا موت وارد ہونے تک اپنے رب کے ساتھ ہیں۔وإن خـيـلـنــا تـجـول على العدا ہمارے گھوڑے دشمنوں پر اس طرح جھپٹتے ہیں