اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 163

اِعجاز المسیح — Page 147

۱۴۷ اردو تر جمه أن نكتب حرفًا لولا عون حضرة مدد شامل حال نہ ہوتی تو ہم ایک حرف بھی نہ لکھ الكبرياء۔هو الذي أرى الآيات پاتے۔وہی ذات ہے جس نے نشانات دکھائے اور کھلے کھلے دلائل نازل فرمائے۔اور میرے قلم وأنزل البينات۔وعصم قلمى وكـلـمـى مـن الخـطـاء وحفظ اور میرے کلام کو خطا سے محفوظ رکھا۔اور دشمنوں ۱۹۵ عرضی مـن الأعداء۔وإنه تبوّء سے میری عزت کی حفاظت فرمائی۔اُس نے منزلي۔وتجلّى على وحضر میرے گھر میں سکونت اختیار کی اور مجھ پر جلوہ فرما ہوا اور میری محفل میں تشریف لایا اور مجھے اپنی خلافت کے لئے منتخب کیا۔میری چراگاہ کو اپنے محفلى۔واجتباني لخلافته۔وأبقى مـرعـای عـلـى صـرافته۔لئے مخصوص کیا۔میرا تزکیہ فرمایا اور خوب وزگانی فاحسن تزکیتی۔وربانی فرمایا۔میری تربیت میں انتہا کر دی اور میری احسن فبالغ في تربيتي۔وأنبتني نباتا رنگ میں نشو و نما کی۔وہ مجھ پر ظاہر ہوا اور اس نے حسنًا۔وتجلى على وشغفني محبت کے اعتبار سے میرے دل میں گھر کر لیا۔حُبًّا۔حتى أننى فرغتُ من عداوة یہاں تک کہ میں لوگوں کی عداوت اور ان کی محبت الناس ومحبتهم۔ومدح الخلق سے اور مخلوق کی ستائش اور مذمت سے بے نیاز ہو گیا۔ومذمتهم۔والآن سواء لي من اب میرے لئے یکساں ہے کہ کوئی میری طرف عاد إلى أو عادا و راد من رخ کرے یا مجھ سے عداوت کرے۔میری جاگیر ضياعـي أو رادا۔وصارت الدنيا طلب کرے یا مجھ پر سنگباری کرے۔اور میری فی عینـی کـجـاريـة بدء ت۔نگاہوں میں یہ دنیا ایسی ہوگئی ہے جیسی ایک چیچک واسود وجهها وصفوف الحسن زدہ لونڈی جس کا چہرہ سیاہ ہو اور اُس کے حسن کے تقوّضت۔وشمَمُ الأنف بالفطس خدو خال معدوم ہو گئے ہوں۔ستواں ناک چپٹی ہو تبدل۔ولهــب الـخـدود إلى گئی ہو اور اس کے گلنار رخساروں پر سیاہ دھبے پڑ النمش انتقل۔فنجوتُ بحول گئے ہوں۔اللہ کی طاقت سے میں نے اس دنیا کی