اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 163

اِعجاز المسیح — Page 137

اعجاز المسيح ۱۳۷ اردو تر جمه الله مُتَوَفِّيه وناقله إلى الأموات | انہیں طبعی وفات دے گا۔اور زندوں سے مُردوں من الأحياء۔ثم إن المائدة تبسُط کی طرف منتقل کرے گا۔پھر سورۃ مائدہ اُن کے له مـائـدة الوفاة۔فاقرأ فَلَمَّا لئے وفات کا مائدہ بچھا رہی ہے۔اگر تو شبہات تَوَفَّيْتَنِي إِن كنت في حرام بعد المنيّة۔وحرام على الشبهات۔ثم إن الزمر يجعله میں مبتلا ہے تو فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي پڑھ۔پھر مِن زُمَرٍ لا يعودون إلى الدنيا سورة زمر انہیں اس زمرے میں شامل کرتی ہے جو الدنيّة۔وإن شئت فاقرأ اس حقیر دنیا کی طرف لوٹتے نہیں۔اگر چاہو تو آیت (۱۸۲) فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ کو الْمَوْتَ۔واعلم أن الرجوع پڑھ لو اور جان لو کہ موت کے بعد واپسی حرام ہے۔قرية أهلكها الله أن تُبعَث قبل اور جس قریہ کو اللہ نے ہلاک کر دیا ہو اس پر قطعاً يوم النشور۔وأما الإحياء بطريق حرام ہے کہ وہ حشر نشر کے دن سے پہلے زندہ کی المعجزة فليس فيه الرجوع إلى جاۓ لیکن معجزہ کے طور پر زندہ ہونے میں ، دنیا الدنيا التي هــی مـقـام الظلم جو کہ ظلم اور جھوٹ کا مقام ہے کی طرف واپسی نہیں والزور۔ثم إذا ثبت موت ہوتی۔پھر جب مسیح کی موت نص صریح سے المسيح بالنص الصريح۔فأزال ثابت ہوگئی تو اللہ نے فصیح بیان کے ساتھ اُس کے الله وَهُـم نـزوله من السماء بالبيان الفصيح۔وأشار في سورة آسمان سے نزول کے وہم کا ازالہ کر دیا اور سورہ نور النور والفاتحة۔أن هذه الأمة اور فاتحہ میں اشارہ فرما دیا کہ یہ امت ظلّی طور پر يرث أنبياء بني إسرائيل على بنى اسرائیل کے انبیاء کی وارث ہوگی۔پس واجب۔الطريقة الظلية۔فوجب أن يأتى ہے کہ آخری زمانے میں اس اُمت میں بھی مسیح في آخر الزمان مسيح من هذه آئے۔جس طرح سلسلہ موسویہ کے آخر میں عیسیٰ الأمة۔كما أتى عيسى ابن مريم ابن مریم آئے۔پس موسی اور محمد۔خدائے في آخر السلسلة الموسوية۔فإن موسى ومحمدًا عليهما صلوات | رحمان ان دونوں پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔سے پھر وہ جس کی موت کا حکم جاری کر چکا ہوتا ہے اُس کی روح کو روکے رکھتا ہے۔(الزمر: ۴۳) ال عمران: ۵۶ المائدة: ۱۱۸