اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 163

اِعجاز المسیح — Page 7

اعجاز المسيح اردو تر جمه أغصانهم۔و كانوا من قبل شاخوں پر اپنا بسیرا نہ بنایا۔حالانکہ اس سے پہلے وہ يتوقعون المسيح على رأس اس صدی کے سر پر مسیح کے آنے کی توقع کر رہے هذه المائة۔ويترقبونه كترقب تھے اور اُس کا اس طرح انتظار کر رہے تھے جس أهلة الأعياد أو أطايب المأدبة۔طرح لوگ عید کے چاندوں کا یا کسی دعوت میں عمدہ فلمّا حُمّ ما توقعوه۔وأُعطى ما کھانوں کا انتظار کرتے ہیں۔لیکن پھر جب اُن کی طلبوه۔حسبوا كلام الله افتراء متوقع چیز ان کے لئے تیار کر دی گئی اور مطلوبہ شے انہیں مہیا کر دی گئی تو وہ اللہ کے کلام کو انسانی افتراء الإنسان۔وقالوا مفترى يُضل تصور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ مفتری ہے جو الناس كالشيطان۔وطفقوا شیطان کی طرح لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔اور وہ يشكون في شأنه بل في إيمانه۔وكذبوه وفسقوه واكفروه مع مریــديـــه وأعوانه۔وأنزل الله اس کی شان بلکہ اس کے ایمان کے متعلق بھی شک کرنے لگے۔انہوں نے اُسے اُس کے مریدوں اور مددگاروں سمیت جھٹلایا اور انہیں فاسق و کافر كثيرا من الآى فما قبلوا وأرى قرار دیا۔اللہ نے کثرت سے نشان نازل فرمائے التأييد في المبادی و الغای فما لیکن انہوں نے قبول نہ کیا۔ابتدا میں بھی اور انتہا توجهوا۔وقالوا كاذب وما میں بھی تائیدات دکھا ئیں لیکن انہوں نے کوئی توجہ دکھائیں تفكروا في مآل الکاذبین نہ کی اور اسے جھوٹا کہا لیکن جھوٹوں کے انجام کے ۱۰ وقالوا مختلق وما تذكروا من متعلق کچھ غور نہ کیا اور انہوں نے اسے مفتری کہا دَرَجَ من المختلقين۔والأسف ليكن جو مفتری پہلے گزر چکے ہیں ان کو مد نظر نہ كل الأسف أنهم يقولون ولا رکھا۔افسوس صد افسوس کہ وہ کہتے تو ہیں لیکن يسمعون ويعترضون ولا سنتے نہیں ، اور اعتراض کرتے ہیں لیکن جواب پر يُصغون۔ويلمزون ولا كان نہیں دھرتے ، عیب جوئی کرتے ہیں پر يُحققون۔وحصحص الحق فلا تحقیق نہیں کرتے۔حق کھل کر سامنے آگیا مگر پھر