اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 163

اِعجاز المسیح — Page 127

اعجاز المسيح ۱۲۷ اردو تر جمه وجذبوا بحبال المحبة إلى الله اور اللہ تعالیٰ کی طرف جونور کا سمندر ہے محبت کی بحر النور۔وأخرجوا بوحي من تاروں سے کھینچے گئے۔اور اللہ کی وحی اور اُس کی الله وجذب منه من أرض الباطل۔کشش سے باطل کی زمین سے نکالے گئے۔وہ وكانوا قبل النبوة كالجميلة نبوت سے قبل زیورات سے عاری حسینہ کی طرح العاطل۔لا ينطقون إلا بإنطاق تھے۔وہ اللہ کے بلائے بغیر نہیں بولتے اور وہ المولى۔ولا يؤثرون إلا الذى صرف اور صرف اس چیز کو اختیار کرتے ہیں جو اُس ١٢٩ هو عنده الأولى۔يسعون كل کی جناب میں بہتر ہو۔وہ لوگوں کو ربانی شریعت کا اہل بنانے میں پوری کوشش کرتے ہیں۔وہ السعى ليجعلوا الناس أهلا للشريعة الربانية۔ويقومون على فرزندانِ شریعت کی ایسے طور پر کفالت کرتے ہیں جیسے ایک بیوہ اپنے بیٹوں کی۔انہیں ایسی قوت ولدها كالحانية۔ويُعطى لهم بیانیہ دی جاتی ہے جو بہروں کو شنوائی بخشتی ہے بيان يُسمِع الصُّمَّ ويُنزِل العُصْمَ۔اور سفید ہرنوں کو اُتار لاتی ہے۔اور انہیں ایسا دل وجنان يجذب بعَقْدِ الهمّة الأمم۔عطا کیا جاتا ہے جو اپنے عقدِ ہمت سے امتوں کو إذا تكلّموا فلا يرمون إِلَّا صائبا۔کھینچ لیتا ہے۔جب وہ بات کرتے ہیں تو اُن کا تیر وإذا توجهوا فيُحيون مَيْتًا خائبا خطا نہیں جاتا اور جب توجہ کرتے ہیں تو نامراد يسعون أن ينقلوا الناس من مُردوں کو بھی زندہ کر دیتے ہیں۔ان کی پوری الخـطـيـات إلى الحسنات۔ومن کوشش ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خطاؤں سے نکال المنهيات إلى الصالحات۔ومن کر نیکیوں کی طرف اور منہیات سے صالحات الجهلات إلى الرزانة كى طرف منتقل کریں۔اور اُن کا رُخ جہالتوں والحصات۔ومن الفسق سے ہٹا کر وقار، متانت اور عقلمندی کی طرف والمعصية إلى العفة والتقات اور فسق و معصیت سے عفت اور تقویٰ کی جانب ومن أنكرهم فقد ضيّع نعمة پھیر دیں۔جو شخص بھی اُن کا انکار کرے تو