اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 163

اِعجاز المسیح — Page 114

اعجاز المسيح ۱۱۴ اردو تر جمه من الصفات إلَّا لِبُری کے لئے چار صفات کو محض اس لئے اختیار کیا ہے نموذجها في هذه الدنيا قبل تاکہ موت سے پہلے اسی دنیا میں وہ ان (صفات) کے نمونے دکھائے۔یہی وجہ ہے کہ اُس نے اپنے الممات۔فأشار في قوله لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولى وَالْآخِرَةِ “ كلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ إلى أن هذا النموذج يُعطى لصدر الإسلام۔ثم للآخرين من میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ نمونہ آغاز (۱۵۰) الأمة الداخرة۔و كذالك قال اسلام کے لوگوں کے لئے اور پھر رُسوا امت کے فی مقام آخر وهو أصدق آخرین کو بھی عطا کیا جائے گا۔اسی طرح اس نے القائلين " ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ | دوسرے مقام پر فرمایا اور وہ اصدق القائلین ہے۔وہ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ " فقسم ثلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ زمان الهداية والعون پس یوں اس نے ہدایت، مدد اور نصرت کے زمانے والنصرة۔إلى زمان نبينا صلى الله عليه وسلم۔وإلى الزمان کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر اور الآخر الذي هو زمان مسیح اس آخری زمانہ پر جو اس امت کے مسیح کا زمانہ هذه الملة۔وكذالك قال ہے تقسیم کر دیا ہے۔اور اسی طرح فرمایا وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ۔اس میں فاشار إلى المسيح الموعود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور ان کے متبعین وجماعته والذين اتبعوهم۔کی طرف اشارہ فرمایا پس قرآن کریم کی ان فثبت بنصوص بينة من القرآن۔ان هذه الصفات قد ظهرت في واضح نصوص سے ثابت ہوا کہ پہلے یہ صفات زمن نبينا ثم تظهر فى ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں بھی ظاہر ے ابتدا اور آخرت (دونوں) میں تعریف اسی کی ہے۔(القصص: ۷۱) سے پہلوں میں سے ایک بڑی جماعت ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت ہے۔(الواقعۃ: ۴۰، ۴۱) ے اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے ) جو ابھی ان سے نہیں ملے (الجمعة: ۴)