ابن مریم — Page 81
٨٣ شان و شوکت سے حصہ نہ ملا۔حضور نے اس کا تذکرہ یوں بیان فرمایا ہے۔میں پنجاب کے ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جو سلاطین مغلیہ کے عہد میں ایک ریاست کی صورت میں چلا آتا تھا۔اور بہت سے دیہات زمینداری ہمارے بزرگوں کے پاس تھے اور اختیارات حکومت بھی تھے۔پھر سکھوں کے عروج سے کچھ پہلے یعنی جبکہ شاہان مغلیہ کے انتظام۔ملک داری میں بہت ضعف آگیا تھا اور اس طرف طوائف الملوک کی طرح خود مختار ریاستیں پیدا ہو گئی تھیں۔میرے پڑدادا صاحب میرزا گل محمد بھی طوائف الملوک میں سے تھے اور اپنی ریاست میں من کل الوجوہ خود مختار رئیس تھے۔پھر جب سکھوں کا غلبہ ہوا تو صرف اتنی گاؤں ان کے ہاتھ میں رہ گئے۔اور پھر بہت جلد اس کے عدد کا صفر بھی اڑ گیا اور پھر شاید آٹھ یا سات گاؤں باقی رہے۔رفتہ رفتہ سرکار انگریزی کے وقت میں تو بالکل خالی ہاتھ ہو گئے۔چنانچہ اوائل عملداری اس سلطنت میں صرف پانچ گاؤں کے مالک کہلاتے تھے۔غرض ہماری ریاست کے ایامیم دن بدن زوال پذیر ہوتے گئے یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت ہو گئی۔es تحفہ قیصریہ - روحانی خزائن جلد ۱۲۔صفحہ ۲۷۰ ، ۲۷۱) حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے اس مشابہت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توار د طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی۔سوریاست کا