ابن مریم — Page 55
۵۶ فرمان مسیحائے زماں " نہایت عجیب بات ہے کہ جیسے ایک مسیح یعنی محض روحانی طاقت سے دین کو قائم کرنے والا اور محض روح القدس سے یقین اور ایمان کو پھیلانے والا موسوی سلسلہ کے آخر میں آیا۔ایسا ہی اور اسی مدت کی مانند موسیٰ کے سلسلہ خلافت کے آخر میں آیا۔" " ایام الصلح - روحانی خزائن جلد ۱۴۔صفحہ ۲۹۷) W دو سلسلوں کی مماثلت میں یہی قاعدہ ہے کہ اول اور آخر میں اشتر درجہ کی مشابہت ان میں ہوتی ہے ، کیونکہ ایک لمبے سلسلہ اور ایک طولانی مدت میں تمام درمیانی افراد کا مفصل حال معلوم کرنا طول بلا طائل ہے۔پس قرآن کریم نے صاف بتلا دیا کہ خلافتِ اسلامی کا سلسلہ اپنی ترقی اور تنزل ، اپنی جلالی اور جمالی حالت کی رو سے خلافت اسرائیلی سے یکلتی مطابق و مشابہ و مائل ہو گا اور یہ بھی بتلا دیا گیا کہ جیسے اسلام میں سر دفتر الہی خلیفوں کا میل موسیٰ ہے جو اس سلسلہ اسلامیہ کا سپہ سالار اور بادشاہ اور تخنت عزت کے اول درجے پر بیٹھنے والا اور تمام کا مصدر اور اپنی روحانی اولاد کا مورث اعلیٰ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ایسا ہی اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت نامہ وہ صیح عیسیٰ بن مریم ہے جو اس امت کے لوگوں میں بحکم رتی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا رنگین ہو گیا ہے۔اور فرمان نے اس کو در حقیقت }) جعلناك المسيح ابن مريم۔وہی بنا دیا ہے۔وکان الله على كل شيء قديرا»