ابن مریم — Page 33
۳۳ کریم میں بیان کردہ علامات نے اس کی آمد کی شہادت دی۔احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں زمانے کے جن حالات و تغییرات کی نشاندہی کی گئی تھی وہ منص شہود پر رونما ہو چکے۔اولیاء اللہ کے کشوف و الہامات جس وقت کی گواہی دیتے تھے وہ وقت گذر گیا۔اور آنے والا آ گیا۔دین مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح و شادمانی کے دن آگئے۔گلشنِ اسلام میں مسرت و انبساط کی کلیاں کھلنے لگیں باغ میں ملت ملت کے کوئی گل رعنا کھلا ہے آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار پس مثیل مسیح آپ کا اور اس نے یہ منادی کی اور بڑی تحدی سے یہ اعلان کیا کہ اگر ہمارے مخالف اپنے تئیں سچ پر سمجھتے ہیں اور اس بات پر سچ مچ یقینی طور پر ایمان رکھتے ہیں کہ در حقیقت وہی مسیح آسمان سے نازل ہو گا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی تو اس فیصلہ کے لئے ایک یہ بھی عمدہ طریق ہے کہ وہ ایک جماعت کثیر جمع ہو کر خوب تفریع اور عاجزی سے اپنے مسیح موہوم کے اترنے کے لئے دعا کریں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ جماعت صادقین کی دعا قبول ہو جاتی ہے بالخصوص ایسے صادق کہ جن میں ملہم بھی ہوں۔پس اگر وہ بچے ہیں تو ضرور صحیح اتر آئے گا اور وہ دعا بھی ضرور کریں گے۔اور ہر گز وہ حق پر نہیں اور یاد رہے کہ وہ ہر گز حق پر نہیں ہیں تو دعا بھی ہر گز نہیں کریں گے۔کیونکہ وہ دلوں میں یقین رکھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہو گی۔ہاں ہماری اس درخواست کو وہ کچے بہانوں سے ٹال دیں گے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳۔صفحہ ۳۴۷) -